• ساتھی سلسلے کا خاص نقش جو بیماری،حسد،نظرِبد،جادو،جنات اور دشمنوں سے حفاظت کے سلسلے میں مجرب ہے رابطہ سیکشن ‘ای میل’ کے ذریعے منگوا سکتے ہیں۔
  • clickhere گذشتہ سائٹ کو ملاحظہ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

 

[۲۰۰۹-۱۹۹۷] تمام بیانات


CD-1/ ۲۰۰۲ - ۱۹۹۷ : .rar | torrent
CD-2/ ۲۰۰۴ - ۲۰۰۳ : .zip | torrent
CD-3/ ۲۰۰۵ : .zip | torrent
CD-4/ ۲۰۰۷ - ۲۰۰۶: .zip | torrent
CD-5/ ۲۰۰۶: .zip | torrent
CD-6/ ۲۰۰۷ - ۲۰۰۶: .zip | torrent
CD-7/ ۲۰۰۷: .zip | torrent
CD-8/ ۲۰۰۸ جنوری تا جون: .zip | torrent
CD-9/ ۲۰۰۸ جولائی تا دسمبر: .zip | torrent
CD-10/ ۲۰۰۹ جنوری تا جون: .zip | torrent

بیانات۔ ماھانہ اجتماع فروری ۲۰۱۵

MI-14-02-15-Fazalurahman-Sb
MI-14-02-15-Fazalurahman-Sb
MI-14-02-2015-Fazalurahman-Sb
MI-14-02-2015-Fazalurahman-Sb
MI-14-2-15-Fazalurahman-Sb
MI-14-2-15-Fazalurahman-Sb
MI-14-02-2015-Nadeem-Sb
MI-14-02-2015-Nadeem-Sb
MI-14-2-15-Nadeem-Sb
MI-14-2-15-Nadeem-Sb
MI-14-2-15-Dr.-Sb-Maghrib
MI-14-2-15-Dr.-Sb-Maghrib
MI-15-02-15-Dr.-Sb-Fajar
MI-15-02-15-Dr.-Sb-Fajar

تمام غزالی ۔۲۰۰۲۔۲۰۱۴

Title Ghazali JANUARY 2015 - Copy_1_Page_01 257 MBGhazali [2002-2014]

تازہ غزالی

Ghazali FEBRUARY 2015_Page_01 2 MBFeb. & March 2015
ﷲوالے بزرگ کی کرامت
فرمایا کہ ہمارے گاؤں کی ایک محترم خاتون تھیں، اُن کے لئے میں نے 1995 ؁ء میں حجِ بدل کیاتھا۔ انھوں نے پیغام بھیجا کہ ڈاکٹر فدا سے کہو کہ تیاری کرے اور میرا حجِ بدل کرے۔ اُن کے گردے ناکارہ ہو گئے تھے اور کرانک رینل فیلیر کی مریضہ تھیں۔ میں اُن کے لئے دُعائیں مانگتا رہا، وہاں پر بھی اور یہاں پر بھی، کہ یا اللہ! شفا دے دے۔ ایک دفعہ محکمۂ مالیات نے کچھ میڈیکل بل پاس کرنے سے پہلے میرے پاس رائے کے لئے بھیجے۔ ایک بل کی مالیت بہت زیادہ تھی۔ یہ بل ایک ڈاکٹر صاحب کی والدہ صاحبہ کا تھا جن کے گردے فیل تھے۔ چونکہ اس سے مریض پر بہت خرچہ ہوتا ہے اس لئے اس کا بل میں نے پاس کروا لیا۔ اس کا شکریہ ادا کرنے کے لئے ان کا بیٹا آیا۔ میں نے کہا مجھے تو نہیں پتہ تھا کہ آپ کا ہے لیکن چونکہ آپ کا حق تھا اس لئے میں نے کہہ دیا کہ ا س کو پاس کریں۔ میں نے اس سے پوچھا کہ اب آپ کی والدہ صاحبہ کا کیا حال ہے؟ اس نے بتایا کہ اب اللہ کا فضل ہو گیا ہے۔ چراٹ میں ایک بزرگ تھے، انھوں نے ایک پودا بتایا، اس کی جڑیں ہم نے نکالیں، ان کو ابالتے ہیں اور پلاتے ہیں اور ڈائلیسس سے ہم فارغ ہو گئے ہیں۔ میں نے کہا کہ ہمارا بھی ایک مریض ہے ہمیں بھی بتا دیں۔ اس نے کہا کہ یہ ہر جگہ اُگتا ہے، اس نے مجھے یونیورسٹی میں وہ پودا دکھایا۔ ہم نے نکالا اور تین مریضوں پر اس کو استعمال کیا، دو کو فائدہ ہوا۔ یوریا ۰۲۱ سے ۰۶ پر آگیاتھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ یہ پودا زمین پر موجود تھا لیکن ہمیں پتہ نہیں تھا، یہ اُن بزرگوں کی کرامت تھی یا انہوں نے دُعا مانگی کہ اللہ نے اُن پر کھول دیا۔ ان کے ذریعے ہم تک پہنچ گیا۔
قرآن ایک ایسامعجزہ ہے کہ اس نے چودہ سو سال سے انسانوں کو عاجز کررکھا ہے
فرمایا کہ قر آن ایک ایسا معجزہ ہے کہ اس نے چودہ سو سال سے انسانوں کو عاجز کررکھا ہے ۔ انسان چاند پر پہنچ گئے اور کمپیوٹر اور قسم ہا قسم کی چیزیں ایجاد ہوگئیں ۔ انسان محیرالعقول کام کرتے ہیں کہ ہوا میں چلتے ہوئے جہاز کی ری فیولنگ کرتے ہیں یعنی اس میں پٹرول ڈالتے ہیں اور چلتی ہوئی مشین کو چاند پر یہاں سے ٹھیک کرتے ہیں ۔ ریموٹ کنٹرول سے اس کو چالو کرتے ہیں، روکتے ہیں لیکن قرآن پاک کا جواب نہ لاسکے، عاجز کیا ہوا ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ کے تعلق والے بندوں کے علاوہ ہر کسی کے باطن پر دھیان کرکے فیض لینے کی کوشش نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے
فرمایا کہ ثاقب صاحب (سلسلے میں بیعت مُرید)کہہ رہا تھا کہ ہمارے مہمان آئے ہوئے تھے، میں نے اُن کے قلب کی طرف دھیان کر کے اُن کا اثر لینا چاہا۔ میں نے اُ سے کہا کہ ایسے ہر کسی سے فیض نہ لیا کرو، بعض اوقات کمزور اعصاب والے کو اعصابی تکلیف ہونے کا خطرہ ہوتا ہے، سوائے اُن لوگوں کے جن کے بارے میں پکا یقین ہو کہ یہ اللہ تعالیٰ کے تعلق والے ہیں اور ان کے باطن میں جو خیالات کی رِیل چل رہی ہے اُس میں غیرُ اللہ نہیں ہے، معصیت نہیں ہے، شہوت نہیں ہے، ایسے لوگوں کے باطن پر دھیان کیا جائے تو فائدہ ہوتا ہے۔ حکیم الامت، مجددالملت، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ نے اپنی کتاب تربیت السالک کی تینوں جلدوں اور دوسری تصانیف میں اس پر پوری بحث کی ہوئی ہے۔ ایک آدمی نے اُن کو خط لکھا کہ میرے بیٹے کی وفات ہوئی ہے اور اُس کی یاد میں بہت پریشان ہوں، بہت غم میں ہوں۔ ان کو جواب میں فرمایا کہ تم اپنے بیٹے کے دھیان کو قلب سے ہٹا کر اپنے خاندان میں اُس کے کسی ہم عمر کا دھیان لایا کروتا کہ وہ غم زائل ہو جائے۔ اگر آدمی غم کو مسلسل دل میں جمائے تو ایک ہفتے میں دل کا مریض بن جائے گا، دل کی بیماری کا فیض پالے گا۔
اصل کے ساتھ جعلی چیز ہر جگہ چلتی ہے
فرمایا کہ سچ بات ہے کہ اصل کے ساتھ جعلی چیز ہر جگہ چلتی ہے۔ گاؤں میں ہی بھتیجے نے مجھ سے کہا کہ فلاں چیز ہم نے بیچی تھی، وہ آدمی گھر پر آکر پیسے عورتوں کو دے کر چلا گیا۔ میں گھر آیا تو مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں جعلی نوٹ دے کر نہ چلا گیا ہو۔ میں پیسے لے کر فوراً بینک چلا گیا، بینک والوں کا تجربہ ہوتا ہے کہ گنتے ہوئے اُن کو انگلیوں میں اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ نوٹ اصلی ہے یا جعلی۔ بینک والوں نے اصلی جعلی کی پرَکھ سیکھی ہوئی ہے، ہمیں پرَکھ نہیں ہے۔ ہمیں کوئی جعلی نوٹ دے کر چلا جائے تو ہمیں پتہ نہیں چلتا۔ اس لئے ہم مقاصد کو بار بار واضح کرتے ہیں کہ مقاصد سامنے آئیں اور انسان کی توجہ انہی کو حاصل کرنے میں لگے۔ ماہرین تو مقاصد کو جانتے ہیں اور آدمی کی پرَکھ مقاصد کی لائن پر کرتے ہیں۔ مقاصد سمجھ لئے اور حاصل کر لئے تو آدمی بن گیا۔ پشاور میں پنجاب سے ایک آدمی آئے، ایسے بیان کئے اور ایسی تقریریں کیں کہ لوگوں کو بہت متاثر کیا اور کئی جماعتیں نکالیں۔ کسی نے پوچھا آپ یہاں کیسے آئے؟ کہا کہ مقصد تو دِین کا کام ہے اور ساتھ کچھ کاروبار کا بھی اِرادہ ہے۔ اب لوگوں سے پیسے جمع کئے، کسی سے ایک لاکھ، کسی سے دو لاکھ، چھ لاکھ، بارہ لاکھ۔ اب ہر مہینے اُن کو... کسی کو دس ہزار، کسی کو بیس ہزار روپے دیتے کہ یہ منافع ہوا ہے۔ لوگ بڑے خوش تھے، کہتے کہ دیکھیں نا! ایسے بھی اللہ والے ہوتے ہیں۔ اور سُود کے مقابلے میں یہ مضاربت کا نظام بہت مفید ہے۔ اس طرح اُس نے لوگوں کا اعتبار حاصل کیا اور کوئی دو کروڑ روپے تک جمع کر لئے۔ کسی سادہ لوح تبلیغی امیر صاحب نے بیان کے زور اور جماعتوں کے نکالنے کی مہارت اور ٹرِک (trick) سے متاثر ہو کر رشتہ بھی دے دیا۔ کچھ عرصہ بعد آدمی بال بچے چھوڑ کردو کروڑ روپے سمیت غائب ہو گیا۔دو آدمی جن کے چھ اور بارہ لاکھ تھے ،انہوں نے بڑی مشکل سے کوئٹہ میں ڈھونڈ نکالا ۔ ایک بازار میں ملاقات ہوئی، اُس نے جونہی دیکھا تو کہا: ’’سبحان اللّٰہ! پشاور کے بزرگ آئے ہیں ، میں آپ کے لئے فروٹ لاتا ہوں‘‘ یہ کہا اور آدمی غائب ہو گیا۔ بارہ لاکھ والے کو تو ہارٹ اٹیک ہو گیااور دوسرے کی نیند اُڑ گئی۔ اب پچھتاوے کیا ہوت، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ اسے پکڑ کر پشاور لائے، بہت پٹائی کی لیکن پٹائی سے تو پیسے انسان سے برآمد نہیں ہو جاتے۔ آخر اس سے پوچھا کہ وہ دو کروڑ روپے کدھر گئے؟ اس نے کہا کہ میں جو لنگر چلاتا تھا، مرغ پلاؤ کھلاتا تھا اور جماعتیں نکالتا تھا اور وہ جو نفع کے پیسے تقسیم کرتا تھا تو یہ وہی پیسے ہوتے تھے نا!
ادارۂ اشرفیہ عزیزیہ کی تربیتی ترتیب
درجہ اوّل: تعلیم الاسلام (مفتی کفایت اﷲ صاحبؒ) کا چار پانچ مرتبہ مطالعہ تا کہ مسائل ذہن نشین ہو جائیں ، جہاں سمجھ نہ آئے خودفیصلہ کرنے کی بجائے علماء سے پوچھنا،استعداد اچھی ہو تو اپنے گھر یا مسجد میں چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس کو سبقًا سبقًا پڑھنا۔اُم الا مراض، اکابر کا سلوک واحسان،فیضِ شیخ (حضرت مولانا زکریا ؒ (تسہیلِ قصد السبیل ،تسہیل المواعظ ،اصلاحی نصاب (دس رسالوں کا مجموعہ از حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ (- درجہ دوم : بہشتی زیور، ملفوظاتِ حکیم الامت (مولانا اشرف علی تھانویؒ) ،اُسوۂ رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم (حضرت ڈاکٹر عبدالحئی صاحبؒ) ، آپ بیتی (حضرت مولانا زکریاؒ) ، تذکرۃ الاولیاء (شیخ فریدالدین عطارؒ) اورکیمیائے سعادت (امام غزالیؒ ( درجہ سوم :سلوکِ سلیمانی (حضرت مولانامحمداشرف سلیمانیؒ) تربیت السالک، التکشف، بوادرنوادر، انفاس عیسیٰ، بصائرحکیم الامت (حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ (، احیاء العلوم) امام غزالیؒ
جہری ذکر کی احتیاط اور طریقہ
سارے تصوف کے سلاسل کی طرح ہمارے سلسلہ میں بھی ذِکر کو قلب کی اصلاح میں بطور بنیادی ذریعہ شامل کیا گیا ہے ۔سلسلہ کی ترتیب میں چشتیہ صابریہ جہری طریقہ ذِکر، ضرب کے ساتھ اختیار کیا گیا ہے۔ پہلے درجہ میں صرف سو بار لاالہ الا اللّٰہ ،سوبار الااللّٰہ اور سو بار اللّٰہ کا ذِکر کیا جاتا ہے ۔دوسرے اور تیسرے درجہ میں لا الہ الاللّٰہ دو سو بار ،الااللّٰہ چار سو بار اللّٰہُ اللّٰہ چھ سو بار ، اللّہ سوبار کی اجازت دی جاتی ہے۔ کتابوں کا مطالعہ تو ہر کوئی کر سکتا ہے جبکہ جہری ذِکر کی ترتیب کے لیے بیعت ، مشورہ اور اس کے طریقہ کو بالمشافہ(آمنے سامنے) سیکھنا ضروری ہے،خود سے کرنے میں ذہنی و جسمانی نقصان کاخطرہ ہو سکتا ہے۔
ھمارےمتعلق
ھمارےمتعلق

مزید
کتب
کتب

مزید
بیانات
بیانات

مزید
غزالی
غزالی

مزید