• ساتھی سلسلے کا خاص نقش جو بیماری،حسد،نظرِبد،جادو،جنات اور دشمنوں سے حفاظت کے سلسلے میں مجرب ہے رابطہ سیکشن ‘ای میل’ کے ذریعے منگوا سکتے ہیں۔
  • clickhere گذشتہ سائٹ کو ملاحظہ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

 

 

 

 

[۲۰۰۹-۱۹۹۷] تمام بیانات


CD-1/ ۲۰۰۲ - ۱۹۹۷ : .rar | torrent
CD-2/ ۲۰۰۴ - ۲۰۰۳ : .zip | torrent
CD-3/ ۲۰۰۵ : .zip | torrent
CD-4/ ۲۰۰۷ - ۲۰۰۶: .zip | torrent
CD-5/ ۲۰۰۶: .zip | torrent
CD-6/ ۲۰۰۷ - ۲۰۰۶: .zip | torrent
CD-7/ ۲۰۰۷: .zip | torrent
CD-8/ ۲۰۰۸ جنوری تا جون: .zip | torrent
CD-9/ ۲۰۰۸ جولائی تا دسمبر: .zip | torrent
CD-10/ ۲۰۰۹ جنوری تا جون: .zip | torrent

بیانات۔اجتماع نومبر ۲۰۱۴


MI-22-11-14-Doctor-Sahib-Maghrib
MI-22-11-14-Doctor-Sahib-Maghrib
MI-22-11-14-Ishq-e-Ahmad
MI-22-11-14-Ishq-e-Ahmad
MI-22-11-14-Kalam-Iqbal-Kabhi-Ae-Haqiqat
MI-22-11-14 Kabhi-Ae-Haqiqat
MI-22-11-14-Qaseeda-Burda-Sharif
MI-22-11-14-Qaseeda-Burda-Sharif
MI-23-11-14-A-Rasol-e-Amin-Nadeem-Sb
MI-23-11-14-A-Rasol-e-Amin-Nadeem-Sb
MI-23-11-14-Hazrat-Sahib-Fajr
MI-23-11-14-Hazrat-Sahib-Fajr

تمام غزالی ۔۲۰۰۲۔۲۰۱۳

f2 250 MBGhazali [2002-2013]

تازہ غزالی

Ghazali NOVEMBER 2014-1_Page_01 1 MBNovember 2014
جب ہم اور آپ صحیح ترتیب کو نہیں چلائیں گے تو باطل کاکام چلے گا، آپ کو جو بزرگوں نے صحیح ترتیب بتائی ہے اُس کوچلائیں تا کہ روشنی پھیلے اور ظُلمت کا پھیلاؤ نہ ہو
فرمایا کہ میرے بھتیجے نے ایک عجیب واقعہ سنایا کہ اویسی سلسلے کا ایک ڈاکٹر یہاں آیا ہوا ہے۔ وہ چند دن اپنے ساتھ بیٹھنے والوں کے لطائف جاری کر دیتا ہے اور قبر پر لے جا کر کشفِ قبور بھی کرا دیتاہے۔ بھتیجے نے کہا کہ مجھے بھی بلایا تھا کیونکہ میں گاؤں کے دِینی آدمیوں میں سے تھا اور اُس کا خیال تھا کہ یہ آئے گا تو گاؤں کے اور لوگ بھی آئیں گے۔ ایک دو بار میں گیا تو اس نے خواجہ معین الدین اجمیریؒ کے خلاف باتیں کیں کہ وہ تو کوئی خاص آدمی نہیں تھا، بس ٹھیک تھا۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ بھتیجے نے بتایا کہ رات کو مجھے خواب میں حضرت علاؤالدین علی احمد صابر کلیریؒ کی زیارت ہوئی۔ ہمارا سلسلہ چشتیہ صابریہ ہے جو بابا فریدالدین گنج شکرؒ کے بعد حضرت علاؤالدین علی احمد صابر کلیریؒ سے چلتا ہے۔ کہا کہ اُن کی زیارت ہوئی۔ میں دیکھتا ہوں کہ یہ ڈاکٹرچراغ جلا رہا ہے اور حضرت مجھ سے فرمارہے ہیں کہ اس چراغ کو جلنے نہ دو۔ میں سوچ رہا ہوں کہ میں کیا کروں؟ اس کو کیسے روکوں کہ اتنے میں حضرت صاحبؒ نے وہیں سے توجہ کی، اُن سے ایک لہر مجھ پر آئی اور مجھ سے چراغ پر گئی اور وہ چراغ بجھ گیا۔ میں نے کہا کہ برخوردار! جب ہم اور آپ صحیح ترتیب کو نہیں چلائیں گے تو باطل کا کام چلے گا۔ آپ کو جو بزرگوں نے صحیح ترتیب بتائی ہے اُس کو نہیں کریں گے تو یہاں پر یہ باطل چیزیں چلیں گی۔ اُس نے پوچھاکہ میں کیا کروں؟ میں نے کہا کہ آپ صحیح چیز چلائیں تا کہ روشنی پھیلے اور ظلمت کا پھیلاؤ نہ ہو۔ اس بھتیجے کو بابا عبدالمعبود صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ جناب حاجی خیال محمد صاحب داوڑ دامت برکاتہٗ نے بھی خلافت دی ہے اور بندہ نے بھی۔ اس واقعہ کے بعد برخوردار نے مجلسِ ذکر شروع کروائی۔
باطن میں اثرات کا آنا
فرمایا کہ بات یہ ہے کہ اول تو ہم محنت مجاہدہ نہیں کرتے، اعمال کی پابندی نہیں کرتے اور اگر یہ پابندی کریں بھی تو ایسے لوگوں کا ساتھ نہیں چھوڑتے جو معصیت کو سوچتے ہیں، معصیت کو بولتے ہیں، جذباتِ شہوانیہ ان پر طاری ہوتے ہیں، قلب کو برباد کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ ہم ایسی مجالس اور ایسی جگہوں کو نہیں چھوڑتے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ قلب میں فیض قرار پکڑتا نہیں ہے، آتا ہے زائل ہو جاتا ہے، آتا ہے دُھل جاتا ہے اور باطن بنتا نہیں ہے کیونکہ ٹینکی کو پانی سے بھر رہے ہیں اور نیچے سے سوراخ کیا ہوا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آنے والی چیز قرار نہیں پکڑتی ہے تا کہ بات جمے اور پکی ہو۔
ایک کے بدلے دس گنا کا اللّٰہ تعالیٰ کا دنیا میں وعدہ ہے
فرما یا کہ رابعہ بصریہ رحمتہ اللہ علیہا کا واقعہ ہے کہ ایک دفعہ اُن کے ہاں دس مہمان آگئے اور گھر میں ایک روٹی تھی۔ اتنے میں کسی آدمی نے آواز دی کہ اللہ کی رضا کے لئے بھیک دے دو۔ رابعہ بصریہ ؒ نے کہا یہ روٹی اس کو دے دو۔ ایک روٹی تھی وہ بھی صدقہ کر دی اور اپنے دس مہمان بیٹھے ہوئے تھے۔ تھوڑی دیر گزری کہ ایک آدمی آیا۔ اس نے کہا کہ میں یہ نو روٹیا ں لایا ہوں آپ کے لئے، قبول کر لیں۔ رابعہ بصریہ ؒ نے کہا کہ یہ ہماری روٹیاں نہیں ہیں، ہماری تو دس روٹیاں ہونی چاہئیں۔ اس آدمی نے کہا کہ ہاں واقعی بھیجنے والے نے تو دس بھیجی تھیں، ایک میں نے اپنے لئے رکھ لی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے دس مہمان آئے ہوئے ہیں اور ہمارے پاس ایک ہی روٹی تھی تو آج ہم نے نقد سودا کیا کیونکہ ایک کے بدلے دس گنا کا اللہ تعالیٰ کا دُنیا میں وعدہ ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے دس روٹیاں بھجوا دیں۔
دنیا کے جھوٹے معیاروں کی اللّٰہ تبارک و تعالیٰ کے ہاں کوئی وقعت نہیں
فرمایا کہ ایوب خان جب صدر ہوتے تھے تو اس کے مقابلے میں الیکشن میں فاطمہ جناح کھڑی ہوگئی۔ بڑی پریشانی اس کو ہوئی، اِدھر ہاتھ پیر مار رہاہے، اُدھر ہاتھ پیر مار رہا ہے مگرکسی جگہ سے نہیں ہورہا ہے۔ اس کو کسی نے بتایا کہ اس وقت جو صاحبِ دعا آدمی ہے وہ فلاں علاقے کے جو پہاڑ ہیں اس میں ہوتا ہے۔ وہاں تک گیا یہ بیچارہ، وہاں اس نے باقاعدہ ڈنڈے کھائے، بے عزت ہوا۔ ڈنڈے مارے اس کو اور ڈنڈے مارنے کے بعد کہا دفع کرو، ہوگیا اس کا کام۔ یہ حال ہے کہ ایک بے سروسامان آدمی کے پاس جاکر ڈنڈے کھانے کیلئے صاحبِ حکومت پہنچ رہا ہے اور وہاں پر تیار ہورہا ہے کہ ڈنڈے کھائے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے نزدیک ان جھوٹے معیاروں کی کوئی اہمیت نہیں۔ وہ ہماری زندگی بنا کر دکھائے، خواہ مال دے کر بنائے یا اس کے بغیر، عہدے جائیدادیں دے کر یا ان کے بغیر، یہ تواس کی مرضی ہے۔
ادارۂ اشرفیہ عزیزیہ کی تربیتی ترتیب
درجہ اوّل: تعلیم الاسلام (مفتی کفایت اﷲ صاحبؒ) کا چار پانچ مرتبہ مطالعہ تا کہ مسائل ذہن نشین ہو جائیں ، جہاں سمجھ نہ آئے خودفیصلہ کرنے کی بجائے علماء سے پوچھنا،استعداد اچھی ہو تو اپنے گھر یا مسجد میں چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس کو سبقًا سبقًا پڑھنا۔اُم الا مراض، اکابر کا سلوک واحسان،فیضِ شیخ (حضرت مولانا زکریا ؒ (تسہیلِ قصد السبیل ،تسہیل المواعظ ،اصلاحی نصاب (دس رسالوں کا مجموعہ از حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ (- درجہ دوم : بہشتی زیور، ملفوظاتِ حکیم الامت (مولانا اشرف علی تھانویؒ) ،اُسوۂ رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم (حضرت ڈاکٹر عبدالحئی صاحبؒ) ، آپ بیتی (حضرت مولانا زکریاؒ) ، تذکرۃ الاولیاء (شیخ فریدالدین عطارؒ) اورکیمیائے سعادت (امام غزالیؒ ( درجہ سوم :سلوکِ سلیمانی (حضرت مولانامحمداشرف سلیمانیؒ) تربیت السالک، التکشف، بوادرنوادر، انفاس عیسیٰ، بصائرحکیم الامت (حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ (، احیاء العلوم) امام غزالیؒ
جہری ذکر کی احتیاط اور طریقہ
سارے تصوف کے سلاسل کی طرح ہمارے سلسلہ میں بھی ذِکر کو قلب کی اصلاح میں بطور بنیادی ذریعہ شامل کیا گیا ہے ۔سلسلہ کی ترتیب میں چشتیہ صابریہ جہری طریقہ ذِکر، ضرب کے ساتھ اختیار کیا گیا ہے۔ پہلے درجہ میں صرف سو بار لاالہ الا اللّٰہ ،سوبار الااللّٰہ اور سو بار اللّٰہ کا ذِکر کیا جاتا ہے ۔دوسرے اور تیسرے درجہ میں لا الہ الاللّٰہ دو سو بار ،الااللّٰہ چار سو بار اللّٰہُ اللّٰہ چھ سو بار ، اللّہ سوبار کی اجازت دی جاتی ہے۔ کتابوں کا مطالعہ تو ہر کوئی کر سکتا ہے جبکہ جہری ذِکر کی ترتیب کے لیے بیعت ، مشورہ اور اس کے طریقہ کو بالمشافہ(آمنے سامنے) سیکھنا ضروری ہے،خود سے کرنے میں ذہنی و جسمانی نقصان کاخطرہ ہو سکتا ہے۔
ھمارےمتعلق
ھمارےمتعلق

مزید
کتب
کتب

مزید
بیانات
بیانات

مزید
غزالی
غزالی

مزید