clickhereگذشتہ سائٹ کو ملاحظہ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔
ساتھی سلسلے کا خاص نقش جو بیماری،حسد،نظرِبد،جادو،جنات اور دشمنوں سے حفاظت کے سلسلے میں مجرب ہے رابطہ سیکشن 'ای میل' کے ذریعے منگوا سکتے ہیں۔

اطلاع

پہلے کی طرح اس سال بھی رمضان کا اعتکاف تین جگہوں پر ہو گا۔
۔ ۱جناب الطاف صاحب ، اسسٹنٹ پروفیسر اسلامیہ کالج یونیورسٹی۔
۔۲جناب ڈاکٹر قیصر صاحب، پروفیسر انجنےئرنگ یونیورسٹی۔
۔ ۳حضرت ڈاکٹر حاجی فدا محمد صاحب دامت برکاتہٗ، خانقاہ، آبدرہ پشاور۔
خانقاہ میں پورے مہینے اعتکاف کی سہولت موجود ہے۔ پورے رمضان میں ان تینوں جگہوں پر مغرب کو مجلس ذکر ہوگی اور افطار بھی وہیں ہو گا۔

غیر مسلم کو مسلمان کرنے کیلئے جَبر نہیں ہے اور مسلمان کو فرض عمل پر ڈالنے کیلئے تو ڈنڈا ہے

فرمایا کہ درس میں ایک آدمی سوال کررہا تھاکہ جبرتو دین میں نہیں ہے، میں نے کہا آپ جبر کسے کہتے ہیں؟ کہا کہ مثلاً یہ طالبان جو جبر کر رہے تھے، زور سے نماز پڑھا رہے تھے اور زبردستی لوگوں سے ڈاڑھی رکھوا رہے تھے۔ میں نے کہا برخوردار! لَآ اِ کْرَاہَ فِی الدّیْنِ کا مطلب یہ ہے کہ غیر مسلم کو مسلمان کرنے کے لئے جبر نہیں ہے اور مسلمان کو فرض عمل پر ڈالنے کے لئے تو ڈنڈا ہے، وہ ٹھیک کررہے تھے، شریعت کا یہی حکم تھا۔ طالبان کی حکومت صالح حکومت تھی اور حکومت اور ا قتدار کی ذمہ داری یہی ہے کہ وہ ضروری کاموں کے نہ کرنے پر ان پر جبر کرے۔ اذان کے بعد محتسب بازار سے گزرتے ہوئے سب کی دکانیں بند کرائے گا۔ اب اگرکوئی دکان بند کرکے چھپ کر اندر بیٹھ گیااور نماز نہیں پڑھی تو اس کی اپنی مرضی ہے لیکن دکان بند کراکے مسجد کی طرف لے جا نے کا جبر کرے گا۔ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ میں دکاندار اسی طرح دکان بند کرکے اندر بیٹھ جاتے ہیں۔ ایک آدمی سعودی عرب میں سلسلے میں بیعت ہے، اس کی گھر والی نے شکایت کی کہ آپ سے بیعت بھی ہے، ڈاڑھی بھی رکھی ہوئی ہے لیکن مکہ مکرمہ میں رہتے ہوئے نماز نہیں پڑھتا اور یہ کہ میرانہیں کہو گے کہ بیوی نے شکایت کی ہے۔ خیر جب اس ساتھی نے مکہ مکرمہ سے ٹیلی فون کیا تو میں نے کہاکہ برخوردار! میں جب وہاں آپ کے پاس آیا تھا تو آپ مسجد میں نظر نہیں آئے، میں نے ساتھیوں سے پوچھا (واقعی پوچھا تھا) تو انھوں نے بھی بتایا کہ آپ مسجد میں نظر نہیں آتے۔ افسوس کہ آپ بڑے دُور ہیں ورنہ میں آپ کی پٹائی کرتاتوپھر آپ ٹھیک ہوجاتے۔

اچھا عمل اور زیادہ عمل

سورۃ ملک کی ابتدائی آیات کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ تَبَارَکَ الَّذِیْ بِیَدِہٖ الْمُلْکُ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُ (برکت والی ذات ہے جس کے قبضے میں ہے ملک اوروہ ہے ہر چیز پر قادر) اَلَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیَاتَ( وہ ذات جس نے پید ا کی موت اور زندگی) لِیَبْلُوَکُمْ(تاکہ آزمائے تم کو) اَیُّکُم (کون تم میں) اَحْسَنُ عَمَلاَ (اچھا عمل کرنے والا ہے) بزرگ کہاکرتے ہیں ’’ اکثر عملا ‘‘ نہیں کہا گیا ہے کہ کون زیادہ عمل کرنے والا ہے بلکہ ’’احسن عملا‘‘ اچھا عمل کہ جو عمل اللہ کے دربار میں قبول بھی ہو جائے اور آخرت کیلئے کارآمد بھی ہو یہ احسن عمل ہے ۔ اکثرعمل یہ ہے کہ ہم اپنی مرضی سے لگے رہتے ہیں۔ اس لگے رہنے کی کوشش بہت زیادہ ہوتی ہے اور فائدہ آدمی کو تھوڑا ہوتا ہے کیونکہ اپنی مرضی سے لگا ہوا ہے۔ پتہ بھی نہیں ہے کہ کیا کریں؟ ایک دن ڈاکٹر محمد صاحب ملنے کے لئے آئے تووہ کسی کا بتا رہا تھے کہ دو تین بیٹے کام کررہے ہیں اور حج ان بیٹوں پر فرض ہوا ہے کیونکہ مال ان کا زیادہ ہے۔خود فرض ادا کرنے کے لئے نہیں جا رہے اور والد کو ایک بیٹا بینک کی کمائی کے حرام پیسوں پہ نفل حج کیلئے بھیج رہا ہے۔ حاجی صاحب بھی جاتے ہوئے خوش ہو رہا ہے۔ اب دین کا فہم ہی نہیں ہے کہ کتنا خرچہ ، تکلیف ،مشکل ، مشقت ہورہی ہے اور فائدہ کچھ بھی نہیں۔

سب سے پہلے اپنی فکر ہے پھر دوسرے کی فکر ہے۔ اگر سب کی فکر کرتے رہے کہ سارے جنتی بن جائیں اور میں دوزخی رہا تو کوئی کام بھی نہ ہوا

فرمایا کہ شاہ ولی اللہ ؒ کے والدشاہ عبدالرحیم ؒ کو بادشاہ نے بلایا۔ بادشاہ کے دربار کے لحاظ سے اچھے کپڑے پہن کر ملاقات کیلئے روانہ ہوئے۔ آگے گئے تو ایسی جگہ سے گزرنا پڑرہا تھاجہاں گندے پانی کا جوہڑ تھا اور درمیان میں تنگ ساراستہ تھا ۔اس راستہ پر گئے تو آگے کتا آگیا۔ انہوں نے کہا یا اللہ! کتا آگیا ہے درمیان میں! اگر یہ پیچھے کوچلا جائے اور میرے لئے راستہ چھوڑدے تو آسانی ہو۔ مگر کتے نے راستہ نہیں چھوڑاتو انہوں نے کتے سے زبانِ حال ( یہ ایک کلام کا باطنی طریقہ ہے ) سے کلام کیا کہ مجھ پر اللہ کے احکامات ہیں پاک ناپاک کے اور اس کی وجہ سے اگر تُونیچے گندے پانی میں اُتر جائے اور مجھے راستہ دے دے تو میرے کپڑے ناپاک نہیں ہوں گے۔ کتا آگے زبانِ حال سے گویا ہوا۔ اس نے کہا: حضرت صاحب! اگر آپ نیچے گندے پانی میں اُتر گئے اور آپ کے کپڑے ناپاک ہوگئے تو تھوڑا ساپانی ان پہ ڈال کر آپ ان کو پاک کرلیں گے جبکہ اگر میں نیچے اُتر گیا اور آپ کے قلب میں یہ بات آگئی کہ میں اس کتے سے افضل ہوں تو اس سے جو قلب پر گندگی آئے گی...اگر سارے سمندر کا پانی بھی اس پر ڈالیں تب بھی صاف نہیں ہوگا۔ وہ پانی میں اُترے اور کتے کو راستہ دیا ۔ اُن کو بتایا گیا کہ آپ کا کتے پر ایک احسان ہواتھاآج اس کا بدلہ دیا ہے۔ آپ ایک مرتبہ گزر کر جارہے تھے اورراستے میں ایک خارش میں مبتلا کتا تھا اس کو آپ نے اُٹھایا، اس کی خدمت کی، اس کا علاج کیا، اس کو شفا ہوئی تو آپ کی ایک کتے کے ساتھ نیکی ہوئی تھی اس کا بدلہ اس کتے نے دیا ہے۔ سُبحان اللّٰہ! اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کی تربیت اپنے خاص اَمر سے فرماتا ہے کہ اگر آپ کے دل میں یہ بات آگئی کہ میں اس کتے سے افضل ہوں تو یہ گندگی تو سات سمندر کے پانی سے بھی نہیں دھلتی۔ سُبحان اللّٰہ! اسی کوشش میں لگے رہنا ہے کہ سب سے پہلے اپنی فکر ہے پھر دوسرے کی فکر ہے۔ اگر سب کی فکر کرتے رہے کہ سارے جنتی بن جائیں اور میں دوزخی رہا تو کوئی کام بھی نہ ہوا ۔کیونکہ جس دینی کام سے مجھے اللہ کی رضا حاصل نہ ہو اور میری اصلاح نہ ہو اور مجھے فائدہ نہ ہو تو وہ تو تحریک ہے جس میں زندہ با د مردہ باد ہو کر لوگوں کو جمع کیا، ہڑبونگ، ہلڑ بازی ہوئی اور بس وقت گزر گیا۔

جہری ذکر کی احتیاط اور طریقہ

سارے تصوف کے سلاسل کی طرح ہمارے سلسلہ میں بھی ذِکر کو قلب کی اصلاح میں بطور بنیادی ذریعہ شامل کیا گیا ہے ۔سلسلہ کی ترتیب میں چشتیہ صابریہ جہری طریقہ ذِکر، ضرب کے ساتھ اختیار کیا گیا ہے۔
پہلے درجہ میں صرف سو بار لاالہ الا اللّٰہ ،سوبار الااللّٰہ اور سو بار اللّٰہ کا ذِکر کیا جاتا ہے
۔دوسرے اور تیسرے درجہ میں لا الہ الاللّٰہ دو سو بار ،الااللّٰہ چار سو بار اللّٰہُ اللّٰہچھ سو بار ، اللّہ سوبار کی اجازت دی جاتی ہے۔
کتابوں کا مطالعہ تو ہر کوئی کر سکتا ہے جبکہ جہری ذِکر کی ترتیب کے لیے بیعت ، مشورہ اور اس کے طریقہ کو بالمشافہ(آمنے سامنے) سیکھنا ضروری ہے،خود سے کرنے میں ذہنی و جسمانی نقصان کاخطرہ ہو سکتا ہے۔

ادارۂ اشرفیہ عزیزیہ کی تربیتی ترتیب

درجہ اوّل: تعلیم الاسلام (مفتی کفایت اﷲ صاحبؒ) کا چار پانچ مرتبہ مطالعہ تا کہ مسائل ذہن نشین ہو جائیں ، جہاں سمجھ نہ آئے خودفیصلہ کرنے کی بجائے علماء سے پوچھنا،استعداد اچھی ہو تو اپنے گھر یا مسجد میں چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس کو سبقًا سبقًا پڑھنا۔اُم الا مراض، اکابر کا سلوک واحسان،فیضِ شیخ (حضرت مولانا زکریا ؒ (تسہیلِ قصد السبیل ،تسہیل المواعظ ،اصلاحی نصاب (دس رسالوں کا مجموعہ از حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ (-
درجہ دوم : بہشتی زیور، ملفوظاتِ حکیم الامت (مولانا اشرف علی تھانویؒ) ،اُسوۂ رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم (حضرت ڈاکٹر عبدالحئی صاحبؒ) ، آپ بیتی (حضرت مولانا زکریاؒ) ، تذکرۃ الاولیاء (شیخ فریدالدین عطارؒ) اورکیمیائے سعادت (امام غزالیؒ (
درجہ سوم :سلوکِ سلیمانی (حضرت مولانامحمداشرف سلیمانیؒ) تربیت السالک، التکشف، بوادرنوادر، انفاس عیسیٰ، بصائرحکیم الامت (حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ (، احیاء العلوم) امام غزالیؒ
(
ھمارےمتعلق
ھمارےمتعلق

مزید
کتب
کتب

مزید
بیانات
بیانات

مزید
غزالی
غزالی

مزید