بیانات ماھانہ اجتماع اکتوبر ۲۰۱۴


01-MI-Tilawat-Fazl-ur-Rehman-Sb......
01-MI-Tilawat-Fazl-ur-Rehman-Sb
07-MI-Fajar-Taleem-Bayyan......
07-MI-Fajar-Taleem-Bayyan
06-MI-Maghrib-Bayyan-Hzrt-Dr.-Sb
06-MI-Maghrib-Bayyan-Hzrt-Dr.-S.
05-MI-Taleem-Dr.-Faheem-Shah-Sb......
05-MI-Taleem-Dr.-Faheem-Shah-Sb
04-MI-Ghulami-me-Na-Kaam-Fazl-ur-Rehman-Sb
04-MI-Ghulami-me-Na-Kaam-Fazl-ur-Rehman-Sb
03-MI-Habibe-Khuda-ka-Fazl-ur-Rehman-Sb......
03-MI-Habibe-Khuda-ka-Fazl-ur-Rehman-Sb

تازہ غزالی

Ghazali-OCTOBER-2014_Page_0 1 MBOctober 2014

تازہ کتب

Seerat E Ummul MomineenAisha r.a 36 MBSeerat e Aisha [R.A]
ﷲکی شان کہ جب کوئی کمرباندھ کر دین کا کام کرنے کے لئے آگے بڑھے تو مالی وسائل تو دِین کے کام کیلئے کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے
فرمایا کہ حضرت مولانا یوسف بنوری صاحبؒ کے زمانے میں ایک آدمی نے بنوری ٹاؤن کے مدرسے کے لئے پنکھے بھیجے۔ ایک دن وہ آدمی آیا اور کہنے لگا حضرت! یہ طلباء پنکھوں کو بے دریغ چلاتے ہیں، اس طرح تو یہ خراب ہوجائیں گے۔ انھوں نے کہا جب آپ نے پنکھے دے دئے تو اب آپ کاان کے ساتھ کیا تعلق رہا اور کہا کہ اس کے پنکھے اٹھا کر اس کے حوالے کرو۔ دارالعلوم کوئی تمہارے پنکھوں اور چندوں کا محتاج ہے کہ ہم سوالی بنیں۔ اللہ کی شان کہ جب کوئی کمرباندھ کر دین کا کام کرنے کے لئے آگے بڑھے تو مالی وسائل تو دین کے کام کے لئے کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ وہ تو اللہ تعالیٰ ایسی جگہوں سے دیتا ہے کہ آدمی کو اندازہ بھی نہیں ہوتا۔
جس معیار کو آج آپ لوگوں نے اپنے لئے بنایا ہے وہ تو پانچ لاکھ میں بھی نہیں ہو رہا، پچاس لاکھ میں بھی نہیں ہو رہا، یہاں تک کہ پانچ کروڑ میں بھی پورا نہیں ہو رہا
فرمایا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ کسی آدمی پر فاقہ آئے اور وہ تین دن فاقہ برداشت کر لے اور کسی کو بتائے نہیں تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے لئے ایک سال کی حلال روزی کا بندوبست فرماتا ہے۔ تین دن کے فاقے سے آدمی کی موت نہیں ہوتی، پینے کیلئے پانی تو مل جاتا ہے۔ آدمی سات دن تک فاقہ کرسکتا ہے اور ڈی ہائیڈریشن (پانی کی کمی) کا وقت مقرر نہیں ہے، لیول مقرر ہے۔ لیکن ایک آدمی ایک دن، دو دن، تین دن اس کے بغیر بھی گزارا کرلیتا ہے۔ وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الاَرْضِ اِلاَّ عَلَی اللّٰہِ رِزْقُہَا (حود:۱۶)کوئی زمین پر چلتا ہوا چوپایا ایسا نہیں ہے جس کی روزی اللہ کے ذمہ نہ ہو، اللہ کہتا ہے کہ یہ میرے ذمہ ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے اوپر لازم کیا ہوا ہے کہ روزی میں نے دینی ہے۔ وَیَعْلَمُ مُسْتَقَرَّہَا وَ مُسْتَوْدَعَہَا۔ (حود:۱۶) یعنی اُس کی قیام گاہ کا بھی اللہ تعالیٰ نے بندوبست کرنا ہے۔ ہاں یہ علیٰحدہ بات ہے کہ جس معیار کو آپ نے بنادیا وہ تو پانچ لاکھ میں بھی نہیں ہورہا، پچاس لاکھ میں بھی نہیں ہو رہا، یہاں تک کہ پانچ کروڑ میں بھی پورا نہیں ہو رہا، مکان بن ہی نہیں رہا۔
دین کے لئے مال دینا اچھی بات ہے مگر دین کے لئے جان دینا اصل ہے
فرمایا کہ ایک دفعہ گاؤں والوں نے والد صاحب کو یہ کہہ کر ابھارا ہواتھا کہ گاؤں کے ایک دوسرے ڈاکٹر اقبال صاحب امریکہ گئے ہیں، انھوں نے اتنے پیسے مساجد کیلئے بھیجے ہیں، اتنے پیسے بیواؤں، غریبوں کے لئے بھیجے ہیں، اتنے دارالعلوموں کیلئے بھیجے ہیں۔ جب میں گاؤں گیا تو والد صاحب نے یہ پوری داستان مجھے سنائی۔ میں نے کہا: ’’جی اقبال نے تو دین کے لئے مال دیا ہے اور ہم نے تو دین کو جان دی ہوئی ہے۔‘‘ والد صاحب خوش ہوئے اور کہا بس ٹھیک ہے۔ ہمارے بھائی صاحب سے کہا کہ تم لوگ ایسے ہی خیراتیں کرتے رہتے ہو، تمہارے پاس اضافی پیسے ہوا کریں تو اس کے پاس دین کے کام کیلئے بھیجا کرو۔ وہ ہمارے لئے کچھ نہ کچھ بھیجا کرتے تھے۔ تو دین کیلئے مال دینا اچھی بات ہے مگر دین کو جان دینا اصل ہے۔ اب ایک آدمی دارلعلوم کو چندہ بھیج رہا ہے اوردوسرے نے اپنابیٹا داخل کیا ہوا ہے تو جس نے بیٹا دیا ہوا ہے اُس تک چندے والا نہیں پہنچ سکتا۔ بلکہ اسی چندے کی برکت سے تو ان کے کاروبار چل رہے ہوتے ہیں اور یہ اس غلط فہمی میں ہوتے ہیں کہ شاید ہمارے چندے سے مدارس چل رہے ہیں۔ ایسی بات قطعاً نہیں ہے بلکہ اہلِ مدارس کی دعاؤں سے آپ کے کاروبار چل رہے ہوتے ہیں۔
جو کافر مدرسے کے انتظامی امور میں مداخلت نہ کرتا ہو اور یہ نہ کہے کہ ہم نے مسجد، مدرسے کے لئے چندہ دیا ہے تو آپ ہمارے گرجے ومندر کے لئے چندہ دیں گے تو اس سے چندہ لے سکتے ہیں
فرمایاکہ حضرت مولانا حسن جان صاحبؒ نے ہمیں ایک واقعہ سنایا کہ ایک مدرسہ تھا، اس کے مالی وسائل کم ہوئے تو پاس ایک یہودی کی دکان تھی، اُس یہودی نے چندہ دیا ہے۔ اُس سے پوچھا کہ آپ کیوں مدرسے کے لئے چندہ دے رہیں ہیں؟ اُس نے کہا کہ ہمارے مذہب میں ہے کہ آسمانی کتاب کی خدمت کیلئے جو پیسہ لگتا ہے وہ بہت برکت والا ہوتا ہے، کاروبار میں برکت ہوتی ہے۔ چونکہ ہمارا علاقہ بہت دُور ہے تو میں نے سوچا کہ قرآن پاک بھی آسمانی کتاب ہے لہٰذا میں نے مدرسے کو چندہ بھیج دیا۔ فتاویٰ دیوبند میں لکھا ہوا ہے کہ جو کافر مدرسے کے انتظامی اُمور میں مداخلت نہ کرتا ہو اور یہ نہ کہے کہ ہم نے مسجد، مدرسے کے لئے چندہ دیا ہے تو آپ ہمارے گرجے، مندر کے لئے چندہ دیں گے تو اس سے چندہ لے سکتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہم اُس سال جب حج کے لئے گئے تو وہ یہودی اور اُس کا پورا خاندان حرم شریف میں بیٹھا ہوا تھا۔ اُس نے بتایا کہ سب خاندان والوں نے ایک ہی خواب دیکھا اور اللہ تعالیٰ نے ایمان کی دولت سے نوازدیا اور قبول ہوئے۔
ادارۂ اشرفیہ عزیزیہ کی تربیتی ترتیب
درجہ اوّل: تعلیم الاسلام (مفتی کفایت اﷲ صاحبؒ) کا چار پانچ مرتبہ مطالعہ تا کہ مسائل ذہن نشین ہو جائیں ، جہاں سمجھ نہ آئے خودفیصلہ کرنے کی بجائے علماء سے پوچھنا،استعداد اچھی ہو تو اپنے گھر یا مسجد میں چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس کو سبقًا سبقًا پڑھنا۔اُم الا مراض، اکابر کا سلوک واحسان،فیضِ شیخ (حضرت مولانا زکریا ؒ (تسہیلِ قصد السبیل ،تسہیل المواعظ ،اصلاحی نصاب (دس رسالوں کا مجموعہ از حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ (- درجہ دوم : بہشتی زیور، ملفوظاتِ حکیم الامت (مولانا اشرف علی تھانویؒ) ،اُسوۂ رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم (حضرت ڈاکٹر عبدالحئی صاحبؒ) ، آپ بیتی (حضرت مولانا زکریاؒ) ، تذکرۃ الاولیاء (شیخ فریدالدین عطارؒ) اورکیمیائے سعادت (امام غزالیؒ ( درجہ سوم :سلوکِ سلیمانی (حضرت مولانامحمداشرف سلیمانیؒ) تربیت السالک، التکشف، بوادرنوادر، انفاس عیسیٰ، بصائرحکیم الامت (حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ (، احیاء العلوم) امام غزالیؒ
جہری ذکر کی احتیاط اور طریقہ
سارے تصوف کے سلاسل کی طرح ہمارے سلسلہ میں بھی ذِکر کو قلب کی اصلاح میں بطور بنیادی ذریعہ شامل کیا گیا ہے ۔سلسلہ کی ترتیب میں چشتیہ صابریہ جہری طریقہ ذِکر، ضرب کے ساتھ اختیار کیا گیا ہے۔ پہلے درجہ میں صرف سو بار لاالہ الا اللّٰہ ،سوبار الااللّٰہ اور سو بار اللّٰہ کا ذِکر کیا جاتا ہے ۔دوسرے اور تیسرے درجہ میں لا الہ الاللّٰہ دو سو بار ،الااللّٰہ چار سو بار اللّٰہُ اللّٰہ چھ سو بار ، اللّہ سوبار کی اجازت دی جاتی ہے۔ کتابوں کا مطالعہ تو ہر کوئی کر سکتا ہے جبکہ جہری ذِکر کی ترتیب کے لیے بیعت ، مشورہ اور اس کے طریقہ کو بالمشافہ(آمنے سامنے) سیکھنا ضروری ہے،خود سے کرنے میں ذہنی و جسمانی نقصان کاخطرہ ہو سکتا ہے۔
ھمارےمتعلق
ھمارےمتعلق

مزید
کتب
کتب

مزید
بیانات
بیانات

مزید
غزالی
غزالی

مزید