انشاء اللہ آئندہ ماہانہ اجتماع بروز ہفتہ 26 اپریل 2014 ء کو خانقاہ میں منعقد ہوگا۔ بیان مغرب کی نماز کے بعد ہو گا۔
clickhereگذشتہ سائٹ کو ملاحظہ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔
ساتھی سلسلے کا خاص نقش جو بیماری،حسد،نظرِبد،جادو،جنات اور دشمنوں سے حفاظت کے سلسلے میں مجرب ہے رابطہ سیکشن 'ای میل' کے ذریعے منگوا سکتے ہیں۔

اﷲتعالیٰ کا ایک قانون ہے، وہ مہلت دیتا ہے انسان کواور اس کے بعد پکڑ آتی ہے

فرمایا کہ وسائل مسائل کی بنیاد نہیں ہیں۔ اور وسائل مسائل کا حل بھی نہیں ہیں کیونکہ انسان استعمال ہورہاہے ارادے کے تحت اور ارادہ قلب سے اُٹھتا ہے۔ اور قلب میں کیاہے؟ قلب میں دُنیا ہے، قلب میں فساد ہے، قلب میں گندگی ہے، قلب میں... یہ چیزیں ہیں جن کی وجہ سے یہ انسانوں کی زندگی کو بگاڑتا ہے، انسانوں کوتکلیف دیتا ہے اور اس کا خیال ہوتا ہے میں تو کامیابی کی طرف جارہا ہوں۔ اﷲتعالیٰ کا ایک قانون ہے، وہ مہلت دیتا ہے انسان کواور اس کے بعد پکڑ آتی ہے۔ فَلَمَّا نَسُوْامَا ذُکِّرُوْا بِہٖ فَتَحْنَا عَلَیْھِمْ اَبْوَابَ کُلِّ شَیْءٍ ط حَتّٰی اِذَا فَرِحُوْابِمَآ اُوْتُوْآاَخَذْنٰھُمْ بَغْتَۃً فَاِذَا ھُمْ مُّبْلِسُونَo (انعام: ۴۴) ترجمہ: پھر جب وہ لوگ اُن چیزوں کو بھولے رہے جن کی اُن کو (پیغمبروں کی طرف سے) نصیحت کی جاتی تھی (یعنی ایمان و اطاعت) تو ہم نے اُن پر (عیش و عشرت کی ) چیزوں کے دروازے کھول دئیے یہاں تک کہ جب وہ خوش ہوئے اُن چیزوں پر جو اُن کو دی گئیں تو پکڑ لیا ہم نے اُن کو دفعۃً (اچانک) پس اُس وقت وہ رہ گئے نا اُمید۔ (معارف القرآن) اُنہوں نے ہم کو بھلایا اور ہماری تعلیمات کو بھلایا تو ہم نے اُن پرچیزوں کے دروازے کھول دئے۔ یہاں تک کہ وہ پھولے نہ سمائے اُن باتوں پر جو اُن کو حاصل ہوئی تھیں۔ کہ مزے تو ہم کررہے ہیں، ساری چیزیں مل گئی ہیں، یہاں تک کہ پکڑا ہم نے ان کواور اس پکڑ سے ان کی ہوئی سِٹی گُم یعنی ان کی مَت ماری گئی (ہوش و حواس کام کرنا چھوڑ گئے)، اتنا پریشان ہوئے۔

مجتہد اخلاصِ نیت سے جوتشریح کرے وہ شریعت کا حصہ ہے اور اس پر عمل کرتے ہوئے کوئی گناہ گار نہیں ہوتا

فرمایاکہ غزوہ خندق کے بعد بنی قریظہ کا محاصرہ ہوا کیونکہ انہوں نے سازش کی تھی۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ سارے کے سارے عصر کی نمازبنی قریظہ میں پڑھیں کیونکہ محاصرہ کرنا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تیزی سے چلے۔ راستے میں ایسے حالات ہوگئے کہ اگر عصر کی نماز بنی قریظہ میں جاکر پڑھتے ہیں تو نماز قضا ہوتی ہے اور حضورﷺ نے فرمایا ہواہے کہ وہاں جاکر پڑھو۔ صحابہ کرامؓ دو گروہوں میں بٹ گئے۔ ایک گروہ نے کہا کہ حضورؐ نے کہا ہے کہ عصر کی نماز وہاں جا کر پڑھو۔ لہٰذا ہم عصر کی نمازوہاں پہنچ کر پڑھیں گے قضا ہوتی ہے کہ ادا ہوتی ہے،چونکہ آپؐ نے فرمایا ہوا ہے۔ دوسرے گروہ نے یہ کہا کہ حضورﷺ کا منشاء اس میں یہ تھا کہ تیزی سے چلو تاکہ عصر کی نماز تک وہاں پہنچ جائیں، اس سے آپ ﷺ کا مطلب نماز قضا کرنے کا نہیں تھا لہٰذا ہم نماز راستے میں پڑھیں گے اور پھر تیزی سے چل کر وہاں پر پہنچیں گے۔ تو ایک گروہ نے نماز وہاں جا کر قضا پڑھی جبکہ دوسرے نے راستے میں پڑھی۔ ان دونوں کی کارگزاری جب حضورﷺ کے سامنے آئی توآپؐ نے نہیں فرمایا کہ اِن کی تشریح ٹھیک ہے اوراُن کی غلط ہے۔ لہٰذا اُن خواص والا آدمی جس کا علم، فہم، تقویٰ اجتہاد کی سطح کا ہو، جس کو امام جس کو امام یا مجتہد کہا جاتا ہے تو اس مجتہد کو تشریح کا اختیار آیت: وَ اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ وَلَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْن میں ’’یتفکرون‘‘ نے دیا ہوا ہے۔ مجتہد اخلاصِ نیت سے جوتشریح کرے وہ شریعت کا حصہ ہے اور اس پر عمل کرتے ہوئے کوئی گناہگا ر نہیں ہوتا۔ لہٰذا کسی ایک کی تقلید تو کرنی پڑے گی۔

خطرات سے حفاظت

فرمایا کہ آج کل چاروں طرف خطرات اور پریشانی کے حالات ہیں۔جو لوگ ملنے کے لئے آتے ہیں اُن کے دلوں پر خوف اور دہشت طاری ہوتا ہے۔اگر مندرجہ ذیل اعمال کی پابندی کریں تو انشاء اللہ حفاظت میں رہیں گے۔
-ہر روز فجر اور مغرب کے بعد سورہ یٰس کی تلاوت کریں۔ ہر جمہ کے دن سورۂ کہف کی تلاوت کریں۔
ہر روز گھر سے نکلتے وقت آیت الکرسی ایک بار اور سورۂ قریش ۲۱ (اکیس) بار پڑھ کر آگے پیچھے دائیں بائیں اور اُوپر نیچے پھونک دیں۔
یہ دُعا فجر اور مغرب کی نماز کے بعد تین تین بار پڑھیں۔ oبِسْمِ اللّٰہِ الَّذِیْ لَا یَضُرُّ مَعَ اِسْمِہٖ شَیْءٌ فِیْ الْاَرْضِ وَ لَا فِیْ السَّمَآءِ وَ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْم


-صبح و شام چار قل پڑھ کر ہاتھوں پر پھونک کر پورے بدن پر جہاں تک ہاتھ پہنچتا ہو مَل لیا کریں۔
یہ دُعا فجر اور مغرب کے بعد تین تین بار پڑھ لیا کریں۔ - oبِسْمِ اللّٰہِ عَلٰی دِیْنِیْ وَ نَفْسِیْ وَ وَلَدِیْ وَ اَہْلِیْ وَ مَالِی

جہری ذکر کی احتیاط اور طریقہ

سارے تصوف کے سلاسل کی طرح ہمارے سلسلہ میں بھی ذِکر کو قلب کی اصلاح میں بطور بنیادی ذریعہ شامل کیا گیا ہے ۔سلسلہ کی ترتیب میں چشتیہ صابریہ جہری طریقہ ذِکر، ضرب کے ساتھ اختیار کیا گیا ہے۔
پہلے درجہ میں صرف سو بار لاالہ الا اللّٰہ ،سوبار الااللّٰہ اور سو بار اللّٰہ کا ذِکر کیا جاتا ہے
۔دوسرے اور تیسرے درجہ میں لا الہ الاللّٰہ دو سو بار ،الااللّٰہ چار سو بار اللّٰہُ اللّٰہچھ سو بار ، اللّہ سوبار کی اجازت دی جاتی ہے۔
کتابوں کا مطالعہ تو ہر کوئی کر سکتا ہے جبکہ جہری ذِکر کی ترتیب کے لیے بیعت ، مشورہ اور اس کے طریقہ کو بالمشافہ(آمنے سامنے) سیکھنا ضروری ہے،خود سے کرنے میں ذہنی و جسمانی نقصان کاخطرہ ہو سکتا ہے۔

ادارۂ اشرفیہ عزیزیہ کی تربیتی ترتیب

درجہ اوّل: تعلیم الاسلام (مفتی کفایت اﷲ صاحبؒ) کا چار پانچ مرتبہ مطالعہ تا کہ مسائل ذہن نشین ہو جائیں ، جہاں سمجھ نہ آئے خودفیصلہ کرنے کی بجائے علماء سے پوچھنا،استعداد اچھی ہو تو اپنے گھر یا مسجد میں چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس کو سبقًا سبقًا پڑھنا۔اُم الا مراض، اکابر کا سلوک واحسان،فیضِ شیخ (حضرت مولانا زکریا ؒ (تسہیلِ قصد السبیل ،تسہیل المواعظ ،اصلاحی نصاب (دس رسالوں کا مجموعہ از حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ (-
درجہ دوم : بہشتی زیور، ملفوظاتِ حکیم الامت (مولانا اشرف علی تھانویؒ) ،اُسوۂ رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم (حضرت ڈاکٹر عبدالحئی صاحبؒ) ، آپ بیتی (حضرت مولانا زکریاؒ) ، تذکرۃ الاولیاء (شیخ فریدالدین عطارؒ) اورکیمیائے سعادت (امام غزالیؒ (
درجہ سوم :سلوکِ سلیمانی (حضرت مولانامحمداشرف سلیمانیؒ) تربیت السالک، التکشف، بوادرنوادر، انفاس عیسیٰ، بصائرحکیم الامت (حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ (، احیاء العلوم) امام غزالیؒ (
ھمارےمتعلق
ھمارےمتعلق

مزید
کتب
کتب

مزید
بیانات
بیانات

مزید
غزالی
غزالی

مزید