clickhereگذشتہ سائٹ کو ملاحظہ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حضرت مولانا اشرف سلیمانیؒ


Majalis-e-Abrar
Majalis-e-Abrar
Maulana-Ashraf-Sulaimani-Sahib-1
Maulana-Ashraf-Sulaimani-Sahib-1
Maulana-Ashraf-Sulaimani-Sahib-2
Maulana-Ashraf-Sulaimani-Sahib-2
Maulana-Ashraf-Sulaimani-Sahib-3
Maulana-Ashraf-Sulaimani-Sahib-3
Maulana-Ashraf-Sulaimani-Sahib-4
Maulana-Ashraf-Sulaimani-Sahib-4
Maulana-Ashraf-Sulaimani-Sahib-5
Maulana-Ashraf-Sulaimani-Sahib-5

تازہ غزالی

August 2014_Page_01 1 MBAugust 2014

تازہ کتب

Seerat E Ummul MomineenAisha r.a 36 MBSeerat e Aisha [R.A]
ساتھی سلسلے کا خاص نقش جو بیماری،حسد،نظرِبد،جادو،جنات اور دشمنوں سے حفاظت کے سلسلے میں مجرب ہے رابطہ سیکشن 'ای میل' کے ذریعے منگوا سکتے ہیں۔

آدمی کا کوئی بھی وقت آخرت کی نیت اور عمل کے بغیر نہ گزرے

فرمایاکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو تین قیمتی چیزیں عطا فرمائی ہیں۔ جان، مال اور وقت۔ ان میں سب سے قیمتی چیز جان ہے، پھر وقت ہے اورپھر مال۔ ان چیزوں کا صحیح استعمال اگر انسان کو آجائے تو آدمی آخرت اور دنیا دونوں کما لیتا ہے۔ اعزاز ان چیزوں کے صحیح استعمال میں ہے۔ کسی آدمی کو خواب میں حضورﷺ کی زیارت ہوئی، آپﷺ نے فرمایا کہ ہمیں مولانا زکریاؒ کی یہ بات بہت پسند ہے کہ وہ وقت کی بہت زیادہ حفاظت کرتے ہیں۔ آدمی کا کوئی بھی وقت آخرت کی نیت اور عمل کے بغیر نہ گزرے۔ حضرت مولانا یحییٰ ؒ جو مولانا الیاسؒ کے بھائی تھے اور مولانا زکریاؒ کے والد صاحب تھے، حضرت مولانا گنگوہیؒ کے خاص مریدوں میں سے تھے۔ مدرسے میں ان تھک پڑھانے والے اور دین کی محنت کرنے والے اورساتھ اپنا کتب خانہ بھی چلاتے تھے جو ان کا ذریعہ معاش تھا۔ ان کا زیادہ تعلق ولایتی طلباء سے ہوتا تھا، ہندوستان میں صوبہ سرحد اور افغانستان کے طلباء کو ولایتی طلباء کہتے تھے۔ یہ بہت مخلص ہوتے تھے اوراساتذہ کی بہت خدمت کرتے تھے۔ سخت گرمیوں میں وہ ان کو لے کر کسی بے آباد سی مسجد چلے جاتے تھے، کنواں تو ہر مسجد میں ہوتا تھا تو کنویں سے پانی نکال نکال کر شاگرد اُن پر ڈالتے تھے۔ ایک اور مولوی صاحب کاگذروہاں سے ہوا، ان کے دل میں خیال گزرا کہ یہ کیسامولوی ہے، حضرت کا مرید بھی ہے اور اسراف کررہا ہے کیونکہ غسل تو پانچ رطل پانی سے کرنا چاہئے (یہ تقریباً ڈھائی لیٹر بنتے ہیں)۔ ہم تو ٹونٹی کھول کر وضو کرتے ہیں اورپوری ایک بالٹی پانی ضائع کر دیتے ہیں۔ مولویوں کو آپس میں ایک دوسرے کا پتہ ہوتا ہے کہ یہ کیا کہہ رہا ہے۔ مولانا یحییٰ صاحبؒ کو اندازہ ہوگیا کہ وہ کیا سوچ رہے ہیں۔ انہوں نے وہیں سے کہاکہ مولوی صاحب! غسل کی نیت سے پانی نہیں ڈال رہا ہوں بلکہ تبرید کی نیت سے یعنی ٹھنڈک حاصل کرنے کی نیت سے ڈال رہا ہوں تاکہ طبیعت تازہ ہواورپھر دین کے کام میں، پڑھنے پڑھانے میں یہ تازگی استعمال ہو۔ عرض یہ تھی کہ پانی جو وہ استعمال کر رہے تھے آخرت کی ایک نیت کے ساتھ استعمال کررہے تھے اور ہم جیسے کم فہم، ناسمجھ لوگ جو ہوتے ہیں وہ دین کاکام بھی دنیا کی نیت سے کرتے ہیں۔ اور اللہ والے دنیا کا کام بھی صحیح نیت سے کررہے ہوتے ہیں، انہوں نے دنیا کو دین بنایا ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ محققین اور کاملین کو صحیح نیت کا فہم ہوتا ہے۔ صحیح نیت کا فہم ہوجانا یہ معرفت ہے۔ کام کرتے وقت یہ خیال ہو کہ اس کے پیچھے نیت کیا ہے؟ آدمی کی جان، مال، وقت، یہ دین کے لئے استعمال ہو۔

در اصل بنیاد یہی ہوتی ہے کہ ہم سوچتے ہیں کہ غلط صحیح راستے سے پیسہ حاصل نہیں کروں گا تو میرا وقت کیسے گزرے گا میر اکام کیسے بنے گا ؟

فرمایاکہ ہمارا جو مکان تعمیر ہورہاتھا اس کے چوکیدار کو کسی نے قتل کردیا۔ میں نے جب یہ پلاٹ خریدا تو پہلے آدمی نے اس کو کرایہ دار رکھا ہوا تھا۔ اس نے آکر حالات بیان کئے، اس کے گھر کے میں نے حالات دیکھے... اتنہائی تنگ دستی کے حالات، کافی سارے چھوٹے بچے، محتاجی پریشانی، آدمی پورا باشرع، پگڑی باندھی ہوئی، میں نے کہا کہ ہماری طرف سے آپ بغیر کرائے کے رہیں، بجلی اورگیس کا بل دے دیا کریں۔ کسی نے اس کو قتل کردیا۔ خیر بجلی کے میٹرو ں کے اتنے ہزار جرمانہ مجھ پر، سوئی گیس کے میٹر کا جرمانہ مجھ پر اور یہ وہ پیسے تھے جواس کو زکوٰۃ کی مَد سے دئے ہوئے تھے۔ میں نے سوچا اگر اپنے ہاتھ سے ادا کرتا ہوں تو زکوٰۃ کا مسئلہ ہے۔ اگر میں کہوں کہ میں نے اس کے میٹر کا بل ادا کردیا ہے تو زکوٰۃ ادا نہ ہوئی۔ لہٰذا اس کے ہاتھ میں دئے۔ وہ بھی اُس نے ادا نہیں کئے۔ زندگی بھی اس کی ایسی گھپلے والی۔ پھر کسی نے بتایا کہ صرف اتنا گھپلا نہیں تھا بلکہ دَم تعویز کی شکل میں عورتوں کی بے حرمتی بھی اس سے ہوتی تھی۔ میں نے کہا کہ اتنے معمولی پیسوں پر... آٹھ دس ہزار پر، بیس تیس ہزار روپوں کے لئے کوئی قتل پر تیار نہیں ہوتا جب تک کہ آدمی کا دل بہت سخت نہ دُکھا ہوا ہواور جب تک اس کی عقلِ سلیم اس بات کو جائز قرار نہ دے کہ اب تیرے لئے اس کی زندگی کا خاتمہ جائز ہے۔ در اصل بنیادیہی ہوتی ہے کہ ہم سوچتے ہیں کہ غلط صحیح راستے سے پیسہ حاصل نہیں کروں گا تو میرا وقت کیسے گزرے گا میر اکام کیسے بنے گا ؟

ﷲ تعالیٰ تو غریب نہیں کہ وہ مخلوق کو روزی نہیں دے سکتا بلکہ اﷲ تعالیٰ تیرا دل دیکھتا ہے۔ اگر تُو اﷲ کی راہ میں خرچ کرے گا تو دس گنا تو دنیا میں ملتا ہے

فرمایا کہ میں بہاولپور میں تھا تو مجھے ایک کتاب لاکر دی گئی۔ کوئٹہ میں حضرت مجدد الف ثانی ؒ کے سلسلے کی گدی ہے اُن کی لکھی ہوئی تھی۔ اُس میں لکھا ہوا تھا کہ جب تک حاجی صاحب زندہ تھے تو یہ اشرف علی میلاد میں بھی ان کے ساتھ شریک ہوتا تھا مگر اُ ن کے مرنے کے بعد اس نے ایسے پَر پُرزے نکالے ہیں کہ اب چالیسووں اور خیراتوں کے خلاف لکھ رہاہے اور یہ کررہا ہے اور وہ کررہا ہے۔ میں نے کہا کہ ماشاء اللہ گدی نشینوں کے سامنے اپنا ایک نقشہ ہے اور حضرت تھانویؒ کے سامنے یہ ہے کہ قوم کا دیوالیہ ہو رہا ہے کیونکہ لوگ ان فضول چیزوں کے لئے سودی قرضہ لے رہے ہیں۔ اپنی جھوٹی انا اور عزت کو بچانے کے لئے ہم یہ سب کر رہے ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں ’’چہ دا خیرات او نہ کم بیا پرتوگ اوزی‘‘ ( کہ اگر یہ خیرات نہ کروں تو شلوار اُترتی ہے، یعنی بے عزت ہوتا ہوں) یہ خیرات اللہ کے لئے نہیں بلکہ یہ تو شلوار کے لئے ہوئی۔ اسلام کا اتنا بڑا اِدارہ ہے خیرخیرات کا اور وہ ان فضول رسموں میں ضائع ہو رہا ہے۔ سب لوگوں کے گھر پر کھانا پکا ہواہوتا ہے مگر خیرات کھانے کے لئے جا رہے ہوں گے۔ اس پر ہزاروں روپے لگاتے ہیں اور اُن کا اپنا پکا ہوا کھاناکتے بلی کھاتے ہیں۔ میں گاؤں گیا ہوا تھا، ہمارے ڈاکٹر امداد صاحب کے والد کی وفات ہوئی تھی اور انہوں نے خیرات کی ہوئی تھی۔ خیرات کے بعدانہوں نے مجھ سے کہا کہ یہاں ایک مریض ہے اگر اُس کو آپ دیکھ لیں۔ بتایا گیاکہ غریب آدمی ہے، لاہورمیں دُکان کیا کرتا تھا اور بال بچوں کا خرچ چلاتا تھا، اب ایسا بیمار ہوا کہ چارپائی پر پڑا ہے۔ میں نے دیکھا تواس کو ایک بیماری ہے جسے Parkinson\'s Disease کہتے ہیں وہ تھی۔ اس میں بدن پر رعشہ ہوتا ہے اور حرکت کرنا مشکل ہوتا ہے اور یہ ایک قابلِ علاج بیماری ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ اے دس ہزار کی خیرات کرنے والے ظالموں! تم پر اس آدمی کا علاج فرض ہے اے ظالموں! چاہئے تھا کہ یہ پیسہ تم اس کے علاج پر لگاتے، اس کے لئے چندہ کرتے تاکہ اس کی تکلیف رفع ہوتی اور اپنے بال بچوں کے لئے روزی کمانے کے قابل ہوتا۔ اے چاول کھا کر، ڈکار مار کر، پیٹ پر ہاتھ پھیرنے والے ظا لموں تم خدا کو کیا جواب دو گے؟ تو ہم اس وجہ سے اس کے خلاف بات کرتے ہیں، ہم نفسِ خیرات کے خلاف بات نہیں کرتے۔ کوئی بھوکا ہو اس کو آپ کھانا کھلا لیں اس کا ثواب ہوگا۔ آدمی کے گھر پر کھانا پکا ہوا ہے اور اُس کو آپ بلا کر چاول کھلاتے ہیں اور خیراتوں میں دروازے پر آدمی کھڑا کیا ہوتا ہے کہ غرباء کو اندر نہیں چھوڑناکہ اگر کھانا کم پڑ گیا تو بے عزتی ہوگی ہاں اگر بچ گیا تو پھر ان کو بھی کھلادیں گے۔ بچا کھچا کھانا غریبوں کو دیتے ہیں کیونکہ وہ خیرات اللہ کی رضا کے لئے تو ہوتی نہیں۔ اسی طرح ولیمہ کا بھی حال ہوتا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ وہ ولیمہ جس میں غرباء نہ بلائے گئے ہوں اس میں برکت نہیں ہوتی۔ ایک لیکچرار صہیب صاحب کی شادی ہورہی تھی اُس کو اس حدیث کا پتہ چلا تو اس نے ۱۷ غرباء کو بلایا۔ جب پیسوں کی ادائیگی کے لئے گئے تو کسی نے کہا کہ ان کو کچھ ڈسکاؤنٹ دے دو۔ انہوں نے کہا کہ آپ کے ۱۷ آدمی فری ہوں گے۔ میرے بھائی! اللہ تعالیٰ تو غریب نہیں کہ وہ مخلوق کو روزی نہیں دے سکتا بلکہ اللہ تعالیٰ تیرا دل دیکھتا ہے اگر تو اللہ کی راہ میں خرچ کرے گاتو اس کا دس گنا تو دنیا میں ملتا ہے۔

عذابِ ادنیٰ اور عذابِ اکبر

فرمایا کہ جن لوگوں نے جہنم سے گززنا ہواور اُن کی معافی وہاں پر لکھی گئی ہو یعنی ان کی معافی وہاں پر ہوگی تو یہ آدمی دُنیا میں خراب اعمال کرے تو یہاں اس کی پکڑ نہیں ہوتی، اس کے لئے پکڑ وہاں پر ہے۔ ہمارے ایک ساتھی تھے، یہ کافی عرصہ پہلے کی بات ہے، آئے اور کہا کہ بھائی کا دو کروڑ روپے کا کاروبار تھا ڈوب گیا، دیوالیہ ہو گیا اور ان کو پشاور چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ میں نے پوچھا کہ ان کے کاروبارکی بنیاد میں کوئی حرام چیزتو نہیں تھی؟ اس نے بتایا کہ ہاں جی سودی حساب کتاب تھا۔ تو اس ساتھی سے میں نے کہا کہ چونکہ آپ کا خاندان دیندار ہے، بڑوں نے آپ کو حلال کمائی پر پالا ہے اور آپ کے حالات سے یہ نظر آرہا ہے کہ آپ لوگوں کا جہنم سے گزرنا نہیں ہے۔ اس لئے آپ کی پکڑ یہاں پر ہو رہی ہے کہ کاروبار فیل ہو رہا ہے، دھکے کھا رہے ہیں، پریشان ہو رہے ہیں۔ یہاں کی پریشانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ آخرت کی پریشانی سے چھڑا دے گا۔ جن کی یہاں پکڑ ہو جاتی ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہے کہُ دنیا کے عذاب کو عذابِ ادنیٰ کہا گیا ہے اور آخرت کے عذاب کو عذابِ اکبر۔
وَلَنُذِیْقَنَّھُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَکْبَرِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ o (السجدۃ:۲۱)
ترجمہ: اور ہم ان کو قریب کا (یعنی دُنیا میں آنے والا) عذاب بھی اس بڑے عذاب (جس کی آخرت میں وعید ہے)سے پہلے چکھا دیں گے تا کہ یہ لوگ(متاثر ہو کر کفرسے) باز آئیں۔ (معارف القرآن) ان کو ہم چھوٹے عذاب کا مزہ چکھائیں گے بڑے عذاب سے پہلے۔ تو بعضوں کو جہنم سے گزرنا ہی نہیں ہوتا ہے لہٰذا دنیا میں پکڑ دھکڑ ہو جاتی ہے۔ دنیا میں مصیبتیں، پریشانیاں اور مشکلات جھیل کر آخرت کے لحاظ سے فارغ ہو جاتے ہیں اور جن کی پکڑآخرت میں ہو وہ دنیا میں مزے کر رہے ہوتے ہیں۔ کفار بھی سارے خراب اعمال کے ساتھ دنیا میں مزے کر رہے ہیں اور ایسے ہی وہ فاسق مسلمان جنہیں جہنم سے گزرنا ہے ان کی دنیا میں پکڑ کم ہوگی، ان کی پکڑ آخرت میں ہوگی۔ خراب اعمال کے اثرات اس دنیا میں بھی ظاہر ہوتے ہیں۔

ادارۂ اشرفیہ عزیزیہ کی تربیتی ترتیب

درجہ اوّل: تعلیم الاسلام (مفتی کفایت اﷲ صاحبؒ) کا چار پانچ مرتبہ مطالعہ تا کہ مسائل ذہن نشین ہو جائیں ، جہاں سمجھ نہ آئے خودفیصلہ کرنے کی بجائے علماء سے پوچھنا،استعداد اچھی ہو تو اپنے گھر یا مسجد میں چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس کو سبقًا سبقًا پڑھنا۔اُم الا مراض، اکابر کا سلوک واحسان،فیضِ شیخ (حضرت مولانا زکریا ؒ (تسہیلِ قصد السبیل ،تسہیل المواعظ ،اصلاحی نصاب (دس رسالوں کا مجموعہ از حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ (-
درجہ دوم : بہشتی زیور، ملفوظاتِ حکیم الامت (مولانا اشرف علی تھانویؒ) ،اُسوۂ رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم (حضرت ڈاکٹر عبدالحئی صاحبؒ) ، آپ بیتی (حضرت مولانا زکریاؒ) ، تذکرۃ الاولیاء (شیخ فریدالدین عطارؒ) اورکیمیائے سعادت (امام غزالیؒ (
درجہ سوم :سلوکِ سلیمانی (حضرت مولانامحمداشرف سلیمانیؒ) تربیت السالک، التکشف، بوادرنوادر، انفاس عیسیٰ، بصائرحکیم الامت (حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ (، احیاء العلوم) امام غزالیؒ
(

جہری ذکر کی احتیاط اور طریقہ

سارے تصوف کے سلاسل کی طرح ہمارے سلسلہ میں بھی ذِکر کو قلب کی اصلاح میں بطور بنیادی ذریعہ شامل کیا گیا ہے ۔سلسلہ کی ترتیب میں چشتیہ صابریہ جہری طریقہ ذِکر، ضرب کے ساتھ اختیار کیا گیا ہے۔
پہلے درجہ میں صرف سو بار لاالہ الا اللّٰہ ،سوبار الااللّٰہ اور سو بار اللّٰہ کا ذِکر کیا جاتا ہے
۔دوسرے اور تیسرے درجہ میں لا الہ الاللّٰہ دو سو بار ،الااللّٰہ چار سو بار اللّٰہُ اللّٰہ چھ سو بار ، اللّہ سوبار کی اجازت دی جاتی ہے۔
کتابوں کا مطالعہ تو ہر کوئی کر سکتا ہے جبکہ جہری ذِکر کی ترتیب کے لیے بیعت ، مشورہ اور اس کے طریقہ کو بالمشافہ(آمنے سامنے) سیکھنا ضروری ہے،خود سے کرنے میں ذہنی و جسمانی نقصان کاخطرہ ہو سکتا ہے۔
ھمارےمتعلق
ھمارےمتعلق

مزید
کتب
کتب

مزید
بیانات
بیانات

مزید
غزالی
غزالی

مزید