:تازہ ترین

ساتھی سلسلے کا خاص نقش جو بیماری،حسد،نظرِبد،جادو،جنات اور دشمنوں سے حفاظت کے سلسلے میں مجرب ہے رابطہ سیکشن ’ای میل’ کے ذریعے منگوا سکتے ہیں۔

click here گذشتہ سائٹ کو ملاحظہ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

 

[۲۰۰۹-۱۹۹۷] تمام بیانات


CD-1/ ۲۰۰۲ - ۱۹۹۷ : .rar | torrent
CD-2/ ۲۰۰۴ - ۲۰۰۳ : .zip | torrent
CD-3/ ۲۰۰۵ : .zip | torrent
CD-4/ ۲۰۰۷ - ۲۰۰۶: .zip | torrent
CD-5/ ۲۰۰۶: .zip | torrent
CD-6/ ۲۰۰۷ - ۲۰۰۶: .zip | torrent
CD-7/ ۲۰۰۷: .zip | torrent
CD-8/ ۲۰۰۸ جنوری تا جون: .zip | torrent
CD-9/ ۲۰۰۸ جولائی تا دسمبر: .zip | torrent
CD-10/ ۲۰۰۹ جنوری تا جون: .zip | torrent

بیانات۔ ماھانہ اجتماع مئی ۲۰۱۵

Khatam-e-Nabowat-11-5-15-Dr-Sb
Khatam-e-Nabowat-11-5-15-Dr-Sb
Khatam-e-Nabowat-11-5-15
Khatam-e-Nabowat-11-5-15
MI-30-5-15
MI-30-5-15
MI-31-5-15
MI-31-5-15

تمام غزالی ۔۲۰۰۲۔۲۰۱۴

Title Ghazali JANUARY 2015 - Copy_1_Page_01 257 MBGhazali [2002-2014]

تازہ غزالی

Title Ghazali JUNE 2015_Page_1 1 MBJune 2015
برکت والی بیعت اور تربیت والی بیعت
) مجلسِ ذکر کے اختتام پر ایک آدمی کا بیعت کے متعلق سوال اور حضرت والا کاجواب سوال: میں حضرت مولانا اشرف صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے بیعت تھا، پھر لاہور چلا گیا، مولانا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا انتقال ہوا تو لاہور میں ایک عالم سے پوچھا جو کہ تصوّف سے واقف تھے، انہوں نے کہاکہ تھانوی صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ جب شیخ کی موت ہوجائے تو تین دن کے اندر اندر دوسرے سے بیعت ہوجائے۔ مجھے فکر ہوئی، میں سیالکوٹ میں بیعت ہوگیا۔ پھر وہ شیخ بھی فوت ہوگئے، پھر میں لاہور میں اشرفیہ خانقاہ گیا، وہاں عبدالمقیم صاحب ہیں جو خلیفۂ مجاز ہیں اس خانقاہ کے اور اس کو چلاتے ہیں، انہوں نے بھی فرمایا کہ تین دن کے اندر بیعت ہونا چاہیے، وہاں آیا کرتے تھے حکیم اختر صاحب، پھر میں نے ان سے بیعت کی۔ جواب: عرض یہ ہے کہ آپ نے ساری بیعتیں برکت والی کی ہیں، تربیت والی بیعت آپ نے نہیں کی۔ تربیت والی تو تب ہوتی کہ آپ بار بار مشورہ کر کے جو ترتیب حضرات بتا تے اس سے گزرے ہوتے، وہ آپ کی نہیں ہوئی ہے۔ اب آپ کو تربیت سے گزرنا چاہیے۔ فرمایا کہ ہماری بیعت ۱۹۶۹ ؁ء میں حضرت جی مولانا انعام الحسن صاحب رحمتہ اللہ علیہ دہلی والے بزرگوں سے ہوئی تھی جو کہ تبلیغی جماعت کے دوسرے امیر تھے، بہت کامل اور بہت پائے کی شخصیت تھے۔ تبلیغ والے حضرات بھی صرف برکت کی بیعت کراتے تھے کہ بیعت کا ایک نام ہو جائے باقی جیسے ہم دوڑاتے ہیں ایسے ہی کام کرتے رہیں، اُس طرف کو نہ جائیں۔ بہر حال ہم نے پوچھا تو پتہ چلا کہ تربیت کرانی ہوتی ہے۔ میں نے کہا کہ حضرت جیؒ دہلی میں ہیں اور ہم یہاں ہیں توتربیت کیسے ہو گی؟ انہوں نے کہا خط کے ذریعے سے ہو سکتی ہے۔ ۱۹۶۹ ؁ء سے ۱۹۷۱ ؁ء تک میں خط لکھتا رہا اورحضرت جی رحمتہ اللہ علیہ خط کا جواب عنایت فرماتے رہے۔ ۱۹۷۱ ؁ء میں ہوگئی جنگ، جنگ کے بعد پاکستا ن ہندوستان کے درمیان خط و کتابت بند ہوگئی۔ ہم نے کسی طریقے سے حضرت جیؒ سے پچھوایا کہ آپ سے رابطہ ممکن ہونا مشکل ہوتا ہے تو یہاں حضرت مولانا اشرف صاحبؒ ہوتے ہیں کیا ہم ان سے اصلاح کی باتیں پوچھ لیا کریں؟ حضرتؒ نے فرمایا کہ ضرور پوچھا کریں۔ حضرت مولانا محمد اشرف صاحب سلیمانی پشاوریؒ کے پاس میں نے جانا آنا شروع کیا۔ کچھ عرصے کے بعد بڑا دل لگ گیا۔ میں نے حضرت مولانا محمد اشرف صاحب سلیمانی پشاوری رحمتہ اللہ علیہسے کہا کہ اگر ہم حضرت جی رحمتہ اللہ علیہ کی بجائے آپ سے بیعت کرلیں ....تو انہوں نے فرمایا کہ نہیں بیعت آپ کی وہی ہونی چاہیے البتہ تربیتی باتوں کا مشور ہ آپ مجھ سے کرتے رہیں، میں نے کہا ٹھیک ہے۔ تو حضرت مولانارحمتہ اللہ علیہ سے بیعت کی اجازت ملنے تک میں نے ان سے بیعت نہیں کی۔ تربیت اِن سے لی ہے بیعت حضرت جیؒ کی ہی تھی۔ یہاں تک کہ ۱۹۸۰ ؁ء میں حضرت مولانا صاحب رحمتہ اللہ علیہنے بیعت کی اجازت دے دی۔ اس وقت حضرت جی صاحبؒ زندہ تھے پھر حضرت جیؒ اور مولانا اشرف صاحبؒ دونوں کی وفات ۱۹۹۵ ؁ء میں ہوئی ہے۔ مئی ۱۹۹۵ ؁ء میں حضرت جی مولانا انعام الحسن صاحبؒ کی اور ستمبر ۱۹۹۵ ؁ء میں حضرت مولانا اشرف صاحبؒ کی وفات ہوگئی۔ بیعت داخلہ ہے اور اصل بات اس کے بعد تربیت ہے، تربیت کے دو رانئے سے گزرنا چاہیے۔بندہ کے کتابچہ’ اصلاحِ نفس‘ میں جو درجہ اوّل، دوئم، سوئم لکھا ہے، یہ بڑی محنت سے لکھا ہے۔ کوئی آدمی اس کی پابندی شروع کر دے، آج سے نیت کرلے کہ میں نے درجہ اوّل کی پابندی شروع کردی اور چھ مہینے میں میں اس کو مکمل کروں گا۔ پھر یہ دیکھے کہ چنددن کے بعد دل کا حال کیسے بدلتا ہے، اور اگر کوئی کام ہی نہ کرے تو آدمی کیا کہہ سکتا ہے۔ مجلس میں آئے جائے، اسی طرح بیان سن لیا، اجرو ثواب ضرور ہوجاتا ہے، کچھ نہ کچھ فائدہ بھی ہوجاتا ہے لیکن آدمی خو د جا کر پھر کام نہ کرے تو اس سے بات نہیں بنتی۔ ایک دن ورزش کرکے آدمی ایک مہینہ بیٹھ جا یا کرے تو اس سے اثرات مرتب نہیں ہوتے۔ ہمارے ایک ساتھی طارق جلالی صاحب دل کے مریض ہوگئے، کہا کرتے تھے کہ ڈاکٹروں نے انہیں واک (پیدل چلنا) کرنے کا کہا، انہوں نے واک شروع کر دی۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ جب شروع کرو گے تو فائدے کا مہینے بعد پتہ چلے گا کہ فائدہ ہوا لیکن جب چھوڑ وگے تو تین دن میں پتہ چلے گا کہ نقصان ہو گیا۔ طارق جلالی صاحب نے کہا کہ واقعی اس مشق کو کیا تو مہینے بعد فائدہ ہوا، اب تین دن چھوٹ جاتی ہے تو پتہ چل جا تا ہے کہ نقصان ہوگیا، کمزوری محسوس ہوجاتی ہے۔ اسی طرح رُوحانیت والے بھی کہتے ہیں کہ ایک دن بلا عذر آدمی سے ناغہ ہوگیا، ایک دن، دو دن، تین دن ناغہ ہو گیا تو چوتھے دن اس کی برکات زائل ہوجاتی ہیں، پھر دوبارہ نئے سرے سے کوشش کرنی ہوتی ہے، اور اگر عذر سے ہوا اور دل میں اس کو غم ہوا کہ بیماری تھی نہ ہو سکا، سفر تھا نہ ہو سکا، وفات ہوگئی تھی کسی کی، بچہ بیمار تھا نہ ہوسکا، اس کو افسوس ہوتا رہا تو اس کی برکت بحال رہتی ہے۔ اس میں دوبارہ ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کرنا لازمی نہیں ہوتا البتہ تربیت لینا لازمی ہے۔ پچھلا سبق پورا کرکے، پچھلے احوال بتا کر آگے کا آدمی مشورہ کرے۔
بعض کم فہم لوگ دوسرے دینی کاموں کی مخالفت کرنے کو ایک مقدس فریضہ سمجھتے ہیں
فرمایا کہ کوہاٹ کے ایک ڈاکٹر صاحب سلسلے میں بیعت ہوئے، ان کو ایک امیر صاحب ٹکر گئے۔ اس نے کہا کہ اوہو، تُو ایسے آدمی سے بیعت ہوگیا ہے کہ چار چار آنے پر اس کی لڑائیاں ہوتی ہیں اور چار چار آنے کیلئے لڑرہاہوتا ہے اور اس سے تُو بیعت ہوگیا ہے۔ واقعی میں چارچار آنے کی خاطر لڑائیاں کرتا ہوں کیونکہ نہ چار آنے کسی کودیتا ہوں بغیر کسی اُصول کے اور نہ چار آنے کسی سے لیتا ہوں اور بعض اوقات لڑائی کرکے چار آنے لے لیتا ہوں اور پھر کہتا ہوں کہ یہ روپیہ لے لو مگر یہ چار آنے میں نے نہیں چھوڑنے تھے کیونکہ یہ اُصول کی بات تھی، اس سے معاشرہ خراب ہوتا ہے، قانون خراب ہوتا ہے۔ خیر یہ آدمی بیعت سے فارغ ہوگیا۔ اس کا ایک ساتھی ماہوار اجتماع میں آیا جس میں میں نے کہا کہ اگرکوئی آدمی بیعت ہونے کے بعد اتنا دل میں رکھے ہوئے ہو کہ میں بھی سلسلے میں ہوں تو کچھ نہ کچھ فائدہ اس کو بھی پہنچتا رہتا ہے۔ وہ چلا گیااور اُس ڈاکٹر سے کہاتو اس نے دل میں بیعت بحال کرنے کا اِرادہ کر لیا۔ پھر اللہ کی شان کہ اس کا معمولی تار لگا ہواتھا، دوبارہ آنے جانے کی اس کو توفیق ہوئی اور اللہ نے پوری زندگی ہی بدل دی۔ میں نے کہا ماشاء اللہ امیر صاحب تو نہ اپنے ساتھ لے جاسکتا تھا آپ کو اور نہ ہمارے ساتھ چھوڑتا تھا۔ ہمارے ساتھ سے ہٹانے کو تو مقدس فریضہ سمجھتا تھا کہ دوسرے دینی کاموں کی مخالفت کرنا مقدس فریضہ ہے اور اپنے ساتھ بھی نہیں لے جاسکتا تھا۔تواُس آدمی کو ایسی ترتیب پر چھوڑ رہا تھا کہ بس آزاد ہو، کسی کا نہ ہو اور کوئی فائدہ ہی نہ ہو۔
خوش اخلاقی مفت کی نیکی ہے اور ولایت کا دروازہ کھولنے والی ہے
فرمایا کہ ہمارے یہاں ایک پروفیسر صاحب نے امام صاحب کو ڈانٹا تو مجھے بڑی ناگواری ہوئی۔ بس پروفیسر صاحب گیا اوراُس کو کمر کا درد ہو گیا اور جماعت کی نماز میں آنے سے ہی رہ گیا۔ ایک دفعہ میں گاؤں گیا تو پانی کی بہت تکلیف تھی، بارشیں نہیں ہو رہی تھیں، کنویں خشک ہو رہے تھے اور لوگ کنوؤں میں مزید آٹھ آٹھ، دس دس فٹ کھدائی کروا رہے تھے۔ ہمارے گاؤں کا ایک آدمی تھاجس کا وقت انگلینڈ میں گزرا تھا اور دہریہ ہو کر آگیا تھا۔ دیہاتی لوگوں نے اُس کی انگریزیت کی وجہ سے اُس کا نام اینٹی پینٹی رکھا ہوا تھا۔ نمازوں کے خلاف باتیں، روزوں کے خلاف باتیں، دین کے خلاف باتیں اس کا مشغلہ تھا۔ اس کا بھی کنواں خشک ہو گیا اور وہ اس کی کھدائی کروا رہا تھا۔ ہمارے امام صاحب کا بیٹا مسجد میں بچوں کو قرآن مجید پڑھاتا تھا، اُس نے اِس آدمی کے بچے کی پٹائی کر دی تو یہ آدمی آیا اور امام صاحب کے بیٹے کو بہت بے عزت کیا۔ پھر وہ کنواں کھودنے پر لگے مزدوروں کو دیکھنے کے لئے گیا، اس نے کہا کہ یہ مزدور ٹھیک کام نہیں کرتے، میں خود دیکھنے نیچے اُتروں گا۔ جب اسے اتارنے لگے تو آدمی کے ہاتھ سے کنویں کی چرخی چھوٹ گئی، اینٹی پینٹی سیدھا جا کر نیچے گرا، سرمیں چوٹ لگی اور مر گیا۔ دوسرے بھائی نے کہا کہ پیچھے میں اُترتا ہوں۔ اس کو اُتار رہے تھے تو آدھے میں وہ بھی چھوٹا اور اِس کی پسلیوں پرجا کر گرا۔ تیسرے آدمی نے چرخی کو روکنے کی کوشش کی، اس نے جوں ہی پکڑا تو چرخی نے اس کو گھمایااور کنویں کے اُس طرف لے جا کر پھینکا۔ میں نے گاؤں والوں کو کہا کہ اس کی پکڑنہیں ہو رہی تھی مگر اس نے ایک اللہ والے کو کرخت بات کر کے ستایا، بس اس کی پکڑ ہو گئی۔ اتنے دنوں یہ دندناتا پھر رہا تھا، اب اس کی پکڑ ہو گئی ہے، اب آپ فکر نہ کریں، بارشیں بھی ہو جائیں گی، علاقے کا پانی بھی ہو جائے گا۔ تو یہ خوش اخلاقی مفت کی نیکی ہے اور ولایت کا دروازہ کھولنے والی ہے۔ کسی شاعر نے کہا ہے کہ ؂ دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھیں کروبیاں
دعایا بددعا فقط الفاظ نہیں جو ہم کہتے ہیں بلکہ یہ قلب کی اس کیفیت کو کہتے ہیں جو ہمارے دِل میں کسی کی خدمت یا اذیت سے پیدا ہوتی ہے
فرمایاکہ نفس کا کچلنا مشکل ہوتا ہے۔ نفس کا کچلنا ہو جائے تو انشاء اللہ آپ مال، جان، اولاد ہر چیز میں واضح برکت کو آتادیکھ لیں گے۔ میں ایک جگہ گیا تو وہاں ایک عورت نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب! میرے بچوں کے لئے دُعا کریں۔ میں نے کہا دعا تو میں کروں گا مگر تم بچوں کے والد صاحب کو ستایا مت کرو، کیونکہ مرد نے شکایت کی تھی کہ مجھے بہت ناگوار باتیں کرتی ہے، تلخ باتیں کہتی ہے کیونکہ عورت مالدار ہے، اس کا مال گھر میں چل رہا ہے، میں نے کہا کہ اگر تو بچوں کی ترقی چاہتی ہے تو خاوند کو ستایا نہ کر، میں دعا کروں گا لیکن نسخہ میں نے آپ کو بتا دیاہے۔ بعض مرد کہتے ہیں کہ دعا کرو بچوں کا مستقبل کھلے۔ میں اس سے کہتا ہوں کہ بیوی کو ستایا مت کرو تو تمہارے بارے میں بھی خیر کے حالات آئیں گے۔ ہم نے آپس میں ایک دوسرے کے دِل دُکھائے ہوئے ہوتے ہیں اس لئے ایک دوسرے کے لئے دل سے دعا کی چاہت نہیں ہوتی۔ دُعا الفاظ تو نہیں ہیں جو ہم کہتے ہیں بلکہ دعا قلب کی اس کیفیت کو کہتے ہیں جو ہمارے دل میں کسی کی خدمت یا اذیت سے پیدا ہوتی ہے۔
ادارۂ اشرفیہ عزیزیہ کی تربیتی ترتیب
درجہ اوّل: تعلیم الاسلام (مفتی کفایت اﷲ صاحبؒ) کا چار پانچ مرتبہ مطالعہ تا کہ مسائل ذہن نشین ہو جائیں ، جہاں سمجھ نہ آئے خودفیصلہ کرنے کی بجائے علماء سے پوچھنا،استعداد اچھی ہو تو اپنے گھر یا مسجد میں چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس کو سبقًا سبقًا پڑھنا۔اُم الا مراض، اکابر کا سلوک واحسان،فیضِ شیخ (حضرت مولانا زکریا ؒ (تسہیلِ قصد السبیل ،تسہیل المواعظ ،اصلاحی نصاب (دس رسالوں کا مجموعہ از حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ (- درجہ دوم : بہشتی زیور، ملفوظاتِ حکیم الامت (مولانا اشرف علی تھانویؒ) ،اُسوۂ رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم (حضرت ڈاکٹر عبدالحئی صاحبؒ) ، آپ بیتی (حضرت مولانا زکریاؒ) ، تذکرۃ الاولیاء (شیخ فریدالدین عطارؒ) اورکیمیائے سعادت (امام غزالیؒ ( درجہ سوم :سلوکِ سلیمانی (حضرت مولانامحمداشرف سلیمانیؒ) تربیت السالک، التکشف، بوادرنوادر، انفاس عیسیٰ، بصائرحکیم الامت (حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ (، احیاء العلوم) امام غزالیؒ
جہری ذکر کی احتیاط اور طریقہ
سارے تصوف کے سلاسل کی طرح ہمارے سلسلہ میں بھی ذِکر کو قلب کی اصلاح میں بطور بنیادی ذریعہ شامل کیا گیا ہے ۔سلسلہ کی ترتیب میں چشتیہ صابریہ جہری طریقہ ذِکر، ضرب کے ساتھ اختیار کیا گیا ہے۔ پہلے درجہ میں صرف سو بار لاالہ الا اللّٰہ ،سوبار الااللّٰہ اور سو بار اللّٰہ کا ذِکر کیا جاتا ہے ۔دوسرے اور تیسرے درجہ میں لا الہ الاللّٰہ دو سو بار ،الااللّٰہ چار سو بار اللّٰہُ اللّٰہ چھ سو بار ، اللّہ سوبار کی اجازت دی جاتی ہے۔ کتابوں کا مطالعہ تو ہر کوئی کر سکتا ہے جبکہ جہری ذِکر کی ترتیب کے لیے بیعت ، مشورہ اور اس کے طریقہ کو بالمشافہ(آمنے سامنے) سیکھنا ضروری ہے،خود سے کرنے میں ذہنی و جسمانی نقصان کاخطرہ ہو سکتا ہے۔
ھمارےمتعلق
ھمارےمتعلق

مزید
کتب
کتب

مزید
بیانات
بیانات

مزید
غزالی
غزالی

مزید