• ساتھی سلسلے کا خاص نقش جو بیماری،حسد،نظرِبد،جادو،جنات اور دشمنوں سے حفاظت کے سلسلے میں مجرب ہے رابطہ سیکشن ‘ای میل’ کے ذریعے منگوا سکتے ہیں۔
  • clickhere گذشتہ سائٹ کو ملاحظہ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

 

[۲۰۰۹-۱۹۹۷] تمام بیانات


CD-1/ ۲۰۰۲ - ۱۹۹۷ : .rar | torrent
CD-2/ ۲۰۰۴ - ۲۰۰۳ : .zip | torrent
CD-3/ ۲۰۰۵ : .zip | torrent
CD-4/ ۲۰۰۷ - ۲۰۰۶: .zip | torrent
CD-5/ ۲۰۰۶: .zip | torrent
CD-6/ ۲۰۰۷ - ۲۰۰۶: .zip | torrent
CD-7/ ۲۰۰۷: .zip | torrent
CD-8/ ۲۰۰۸ جنوری تا جون: .zip | torrent
CD-9/ ۲۰۰۸ جولائی تا دسمبر: .zip | torrent
CD-10/ ۲۰۰۹ جنوری تا جون: .zip | torrent

بیانات۔ ماھانہ اجتماع فروری ۲۰۱۵

MI-14-02-15-Fazalurahman-Sb
MI-14-02-15-Fazalurahman-Sb
MI-14-02-2015-Fazalurahman-Sb
MI-14-02-2015-Fazalurahman-Sb
MI-14-2-15-Fazalurahman-Sb
MI-14-2-15-Fazalurahman-Sb
MI-14-02-2015-Nadeem-Sb
MI-14-02-2015-Nadeem-Sb
MI-14-2-15-Nadeem-Sb
MI-14-2-15-Nadeem-Sb
MI-14-2-15-Dr.-Sb-Maghrib
MI-14-2-15-Dr.-Sb-Maghrib
MI-15-02-15-Dr.-Sb-Fajar
MI-15-02-15-Dr.-Sb-Fajar

تمام غزالی ۔۲۰۰۲۔۲۰۱۴

Title Ghazali JANUARY 2015 - Copy_1_Page_01 257 MBGhazali [2002-2014]

تازہ غزالی

Ghazali FEBRUARY 2015_Page_01 2 MBFeb. & March 2015
قرآن کی حفاظت
فرمایا کہ حضرت عثمان ص کے دور میں اس طرح ہوا کہ ایک محاذ پر دو لشکر اکٹھے ہوئے۔ مثال کے طور پر آپ سمجھیں کہ ایک لشکر وزیرستان، بنوں کے علاقے کا ہو اور دوسرے لشکر میں مردان، چارسدہ، صوابی کے علاقے کے لوگ ہوں، تو بالفرض وزیرستان والا نماز پڑھانے کے لئے آگے ہوا اور اُس نے جو اپنے Accent (لہجہ) میں تلاوت کی تو دونوں علاقوں کی قرأت میں بڑا فرق ہے۔ وہ ’غوخہ‘ (یعنی گوشت) کو ’غوشہ‘ کہتے ہیں۔ اور بھی بڑے فرق ہیں۔ کوئی ایک جملہ کوئی بولے وزیرستان والا ’’تُو سے نن مڑے بہ دِلے خری ئے‘‘ (یعنی آپ آج یہاں کھانا کھائیں گے) جبکہ پشاور، مردان کی پشتو میں کہتے ہیں:’’تا سو نن روٹے بہ دِلتہ خورئے‘‘ اور مروت اگر ہوں تو کہتے ہیں: ’’چائے چشے؟‘‘ (یعنی چائے پیو گے؟) جبکہ پشاور، مردان کی پشتو میں کہتے ہیں: ’’چائے بہ سکَے؟‘‘ تو وزیرستان والوں نے نماز پڑھائی، سلام پھیرا تو پیچھے دوسرے علاقے والے تلواریں لے کر آگے آگئے۔ انہوں نے کہا: ’’یہ تم نے کیا پڑھا ہے؟‘‘ تم نے قرآن کو بگاڑنے کی کوشش کی ہے اور تم ہمارے ہوتے ہوئے قرآن مجید کو تبدیل کررہے ہو۔ تو انہوں نے کہا: ’’بھائی یہ ہمارے لئے رسول اللہﷺ نے ٹھیک کہا ہوا ہے، مانا ہوا ہے، اس لئے ہم نے پڑھا۔‘‘ پر بات بڑھ گئی، یہاں تک کہ کشت وخون ہو رہا تھا کہ بڑے بوڑھے آگے آئے اور انہوں نے کہا کہ آپ خاموش ہوجائیں، امیر المؤمنین سے فیصلہ کروائیں گے۔ خیر جھگڑا ختم ہوا، لشکر واپس آیا۔ حضرت عثمان ص سے تذکرہ ہوا۔ انہوں نے سوچا کہ اوہو! واقعی اسلام تو اتنا پھیل گیا ہے، ایسے نئے نئے لوگ آرہے ہیں، ان باتوں کی معلومات تو لوگوں کو نہیں ہیں، اب کیا کریں؟ انہوں نے کہا کہ اب تو یہ کرنا ہوگا کہ ایک ہی قرأت پر اُمت کو جمع کرناہو گا۔ تو اب ساری اُمت کی قرآن مجید پڑھنے کی ایک ہی قرأت ہے۔ طٰہٰ، مَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقآی اور وَضُّحٰی، وَالَّیْلِ اِذَا سَجٰی، مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَاقَلٰی... دوسری قرأت میں اس کو طے ہے ما انزلنا علیکَ القرٰنَ لتشقے اور وضحے واللیلِ اذا سجے ما ودعک ربک و ما قلے پڑھا جاتا ہے۔ اس کو قرأتِ امالہ کہتے ہیں۔ اسی طرح ایک قرأت میں ولا تَقَربَا پڑھتے ہیں اور دوسری قرأت میں ولا تِقربَاپڑھتے ہیں۔ ایک قرأت ہے جس میں اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ، الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ، مالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِکی جگہ مَلِکِ یَوْمِ الدِّین پڑھتے ہیں۔ ایک دفعہ ایک عرب ہمارے ساتھ جماعت میں تھا، وہ بیان کررہا تھااور مجھے ترجمہ کرنے کیلئے کھڑا کیا ہوا تھا۔ اُس نے کہا: ’عزوزہ‘میں نے سوچا یا اللہ! ’عزوزہ‘کا کیا معنیٰ ہے؟ مجھے تو اس کا پتہ نہیں۔ میں نے کہا پھر کہو! اس نے کہا: ’عزوزہ‘، میں نے کہا پتہ نہیں کیا کہہ رہا ہے تو پھر اس نے اِشارہ کیا کہ ایسی ایک عورت ہو، اس کی ہڈیاں اور چمڑی رہ گئی ہو، تو میں نے جب کہا: ’عجوزہ؟‘اس نے کہاہاں، ہاں! ’عجوزہ‘ بوڑھی عورت کو کہتے ہیں۔ اس طرح کے تلفظ کے فرق اُردو، پنجابی، پشتو ساری زبانوں میں ہوتے ہیں۔ اس لئے بڑی عمر کے لوگوں کے لئے دوسرے لہجے اور تلفظ (Accent & Pronounciation) میں بولنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس عمر کے لوگوں کی درخواست پر ہی آپﷺ نے ہر قبیلے کو اپنے تلفظ اور لہجے میں پڑھنے کی اجازت دی تھی۔ حضرت عثمان ص نے سارے ریکارڈ کو پھر نکالا۔ زید بن ثابت ص نے پھر سارے کا دوبارہ موازنہ (Tally) کیا، اسی ترتیب پر دو گواہوں کے ساتھ اور سب کچھ کرکے پھر ایک قرأت روایتِ حَفص اور ایک رسمُ الخط کے مطابق لکھوایااور اس کی تلاوت کو حکومتی مراسلہ (State Order) کے ذریعے سے چالو کرایا اور باقی سب کو بند کرا دیا۔ آج کل جو ہم پڑھتے ہیںیہ روایتِ حَفص ہے اور ایک روایت امام عاصمؒ کی ہے۔ اس طرح سات روایتیں ہیں ان میں سے بعض روایتوں کی مزید شاخیں ہیں جن کی وجہ سے دس بن جاتی ہیں، اس لئے ان ساری روایتوں کو ’سبعہ عشرہ‘ کہتے ہیں۔ یہ روایتیں آج تک موجود ہیں اور سبعہ عشرہ کے قاری حضرات سب کو جانتے ہیں اور سب کو پڑھ سکتے ہیں۔ بعد کے دور میں تُرک لوگ مسلمان ہوئے تو ان کے بڑے بوڑھے، جن کی عمریں چالیس سال سے اُوپر ہوگئی تھیں، بہت بھی کوشش کریں وہ ’ک‘ نہیں پڑھ سکتے تھے۔ ’ک‘ کو ’چ‘ پڑھتے ہیں۔ اکابر ینِ دیوبند گئے ہوئے تھے حج پر تو وہاں اتفاقاً ایسے وقت پر پہنچے کے جماعت ہوگئی تھی اور ایک ترک جماعت ثانی کرارہا تھا، اس نے پڑھا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ، اِیَّاچَ نعبُدُ وَاِیَّاچَ نَسْتَعِیْن تو پیچھے اکابرینِ دیوبند نے نماز پڑھی اور نماز کے بعد باقی حضرات نماز دُہرانے لگ گئے جب کہ مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ نے نہیں دہرائی۔ ان سے پوچھا کہ کیا بات ہوئی ہے، انہوں نے کہا کہ سَبْعَۃ احرف پر جو قرآن کو پڑھنا جائز قراردیا گیا ہے تو اس میں ایک یہ بھی ہے۔ اس قوم کی مجبوری ہے لہٰذا اُن کے لئے جائز ہے۔ جاپان والے ’ل‘ کو ’ر‘ پڑھتے ہیں: ارحمدُ رِرّٰہِ رَبِّ الرعارَمین الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ،مٰارِکِ یَوْمِ الدِّیْن۔ وہ لوگ ’ل‘ نہیں پڑھ سکتے۔ تو اس کی قیامت تک گنجائش رہے گی، جو قوم بھی آئے گی تو اس کے لئے ’’سبعۃ احرف‘‘ کی گنجائش ہمارے پاس ہوگی۔ اس کا شریعت میں پورا بندو بست (Provision) ہے۔ حضرت عثمان ص نے روایتِ حفص کے مطابق قرآن پا ک کے نسخے بنائے۔ ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے لکھا ہے کہ سات نسخے بنائے۔ سات بڑی بڑی ولایتیں جو ان کی تھیں ان میں ایک ایک نسخہ بھیجا۔ حضرت عثمان ص کے ہاتھ کے جو نسخے ہیں ان میں سے اس وقت دو موجود ہیں۔ ایک استنبول کے توپ کاپے کے عجائب خانہ میں ہے اور ایک تاشقند میں ہے۔ جب روسی انقلاب آیا ہے اس وقت کسی طریقے سے ان کے ہاتھ لگا ہے اور اس کو انہوں نے وہاں رکھا ہوا ہے۔ تاشقند والا وہ ہے جس پر حضرت عثمان ص خود تلاوت کررہے تھے اس پر ان کا شہید ہوتے وقت خون بھی گرا ہے فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اَللّٰہُ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْم پر ان کا خون گرا ہے۔ ہمارے حضرت مولانا صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی فوٹو کاپی منگوائی تھی تو اس کو ہم نے بھی دیکھا، اس جگہ کو بھی دیکھا جہاں ان کے خون کے دھبے تھے۔
اوزار اور منصوبہ بندی سے آ پ دس گنا زیادہ کام کرسکتے ہیں
فرمایا کہ گندم پھیلائی ہوئی تھی خشک کرنے کے لئے، ہم ایک صبح اس گندم کو جمع کررہے تھے کیونکہ بارش کا خطرہ ہو گیاتھا۔ میں بھی جمع کررہا تھااور ساتھی بھی کررہے تھے، وقت تھوڑا تھااورکام زیادہ تھا، میں نے سوچا اب کیا کریں؟ میں نے دو گھسیٹنے والی چیزیں ڈھونڈ نکالیں جسے آپ لوگ وائپر (Viper) کہتے ہیں۔ دو وائپر کو ہم نے فرش پرگھسیٹا تو زیادہ کام ہوگیا، دوسرے ساتھیوں کو بھی سمجھ آگئی۔ ایک نے خود سوچا اور اس نے بوری کو سمیٹ کر رکھا اور پیچھے سے زور دینے لگا۔ کھینچنے پر دوگنا قوت لگتی ہے اور دھکیلنے پر آدھی لگتی ہے، Push پر آدھی ہے اورPull پر ڈبل ہے۔ تو کام تھوڑی دیر میں ہم نے ختم کرلیا۔ میں نے اُن سے کہا برخوردار! یہ منصوبہ بندی اور اوزار ہیں، ان سے آ پ دس گنا زیادہ کام کرسکتے ہیں بلکہ بیس گنا بھی کام کرسکتے ہیں، منصوبہ بندی سے اور اوزا ر سے قوت دس گنا، بیس گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ ہمارا انجینئر نگ کے اوزاروں کے ساتھ کیا کام ہے، ہم اپنے اوزاروں کی بات کرتے ہیں۔ اللہ کے قرب میں بھی ایک چلنا خود سے ہے، کہ انسان نے سوچا اور اس کے ذہن میں منصوبہ آیاکہ میں یہ دینی کام کروں یا وہ دینی کام کروں، یہ اس کی اپنی سوچ ہے۔ جبکہ ایک طریقہ ہے منصوبہ بندی کے تحت کرنا یعنی سمجھدار لوگوں سے پوچھنا، منصوبہ بندی کرنا کہ کس وقت کیا کام کرنے کا زیادہ فائدہ ہے۔ اس سے آدمی کی کارکردگی بہت بڑھ جاتی ہے اور منزل بہت آسان ہوجاتی ہے، فائدہ بہت زیادہ ہوجاتا ہے۔ محققین کا یہ کمال ہوتا ہے کہ خود پالیتے ہیں، خود پانہ سکیں تو اوروں سے مدد لیتے ہیں۔ پوچھتے ہیں ان سے مشورہ کرتے ہیں تو اس سے اللہ تعالیٰ تحقیقی بات تک ان کو پہنچا دیتا ہے جس کے نتیجے میں توانائی اور قوت تھوڑی لگتی ہے اور کام بہت زیادہ ہوجاتا ہے۔ ایک اَن پڑھ جاہل آدمی کا ایک اہلِ علم کے ساتھ کام کرناایسا ہے گویا اس کے پاس اوزار آگئے ہیں۔ پھر اگر اللہ پاک اس کو توفیق دیدے، بصیرت والے مشائخ کے ساتھ اس کا ساتھ ہوگیا تو گویا اس کو منصوبہ بندی ہاتھ آگئی، اب تو یہ ایسی ترتیب سے کام کررہا ہے کہ جس سے بے اندازہ اور بے پناہ فائدہ ہورہا ہے۔
بیعت کوئی بجلی کا کرنٹ نہیں ہے بلکہ یہ ایک ادارے میں داخلہ ہے
فرمایا کہ ہمارا خیال ہوتا ہے کہ بیعت کہیں بجلی کا کرنٹ ہے بس ہاتھ میں ہاتھ دیا، کرنٹ لگ گیا اور اس سے تربیلا والی بجلی چالو ہوگئی۔ بیعت کرنٹ نہیں ہے بلکہ یہ ایک ادارے میں داخلہ ہے۔ داخل ہونے کے بعدپھر آدمی بیٹھ نہیں جاتا، نصاب پڑھتا ہے، سمجھتا ہے، سیکھتا ہے، کوشش کرتا ہے، امتحان دیتا ہے۔ کبھی پاس ہوتا ہے، کبھی فیل ہوتا ہے، فیل ہوتو دوبارہ کوشش کرتا ہے، پھر پوچھتا ہے، کوتاہیوں کو درست کرتا ہے یہاں تک کہ کرتے کرتے منزل پوری ہوجاتی ہے۔ ڈگری اس کے ہاتھ میں آجاتی ہے اور اگر داخلہ تو لیا ہوا ہو میڈیکل کالج میں اور پھر رہا ہو بازاروں میں، کر رہا ہو جلسے جلوس اور طالب علم رہنما بنا ہوا ہو، پانچ سال کے بعد باقی بھی فارغ ہوئے یہ بھی کچھ جھوٹ، سچ کرکے فارغ ہوگیا، اب انجکشن لگانے سے یہ بھاگے گا کہَ رگ کا انجکشن لگاناہے، گوشت کا انجکشن لگانا ہے، اس سے بھاگ رہا ہے اور مریض کی تشخیص کرنی ہے، اس سے بھاگ رہا ہے، بلڈ پریشر چیک کرنا ہے، اس سے چُھپ رہا ہے کیونکہ اس نے داخلہ تو لیا تھا لیکن محنت کرکے سیکھا نہیں۔ ہمارے ایک دوست نے لطیفہ سنایا کہ یہ جوہوائی فائر والی بندوق ہوتی ہے، آگے غبارے لگائے ہوتے ہیں اور آدمی فائر کرارہا ہوتاہے، اس کے پاس ایک صاحب آگیا دو پھولوں والا (Sub-Inspector Police)، اس کو بھی شوق ہوگیا، اس نے وہ بندوق لی، ایک ڈز کیا خطا ہو گیا، دوسرا ڈز کیا خطا ہوگیا، تیسرا کیا خطا ہوگیا، اس کے پاس جو آدمی کھڑا تھا اس کو بڑی حیرانی ہوئی کہ پولیس کا دو پھولوں والا آدمی ہے، حکومت نے معاشرے کی حفاظت کے لئے رکھا ہوا ہے اورتین ڈز اس نے خطا کرلئے۔ تو اس نے اس پولیس والے سے پوچھا ’’خان دا سنگہ چل دے؟‘‘ کہ خان یہ کیسی بات ہے؟ اس نے بتایا کہ ’’زہ اصل کہ پولیس کے ومہ خو بینڈ کے پاتے شوے ومہ‘‘ کہ میں پولیس میں تو تھا لیکن بینڈ میں رہا ہوں۔ ڈھول باجے بجاتا رہا ہوں، ڈز نہیں کیا۔ تو صرف پولیس کے دو پھول لگا لئے تو اس کے نتیجے میں تو آدمی کو پولیس کی مہارت نہیں ہوگئی کہ فائر اس کا ٹھیک ہورہا ہو، ملزم کو پہچان رہا ہو، پکڑنے کی منصوبہ بندی اس کو ساری آتی ہو۔ یہ تو جُدا چیزیں ہیں۔ اگرچہ پولیس میں ضرورتھا لیکن رہا وہ بینڈ والوں میں تھا۔ ایسے ہی ہمارا بھی داخلہ بیعت کر کے ہوتا ہے لیکن داخلہ برکت والا ہوتا ہے۔ ہاں یہ با ت ضرورہے کہ آدمی کے ذہن میں اتنا ہوکہ میں بھی بیعت ہوں تو کچھ نہ کچھ فائدہ سلسلے کی دُعاؤں کا اس کو بھی پہنچتا رہتا ہے۔
مزاج میں چڑچڑے پن کو دُور کرنے کے لئے معمولات کو اعتدال پر لانا ضروری ہوتا ہے
فرمایا کہ ا حیاء العلوم کا درس ہو رہا تھا، اس میں لکھا تھا کہ جو آدمی کام پر جائے تو عقل کو ساتھ لے کر جائے، اس سے مراد یہ ہے کہ کھانا کھا کر جائے۔ اس بات کو ڈاکٹر صاحبان سمجھتے ہیں کہ جب خون میں شکر کی مقدار (Blood Glucose Level) کم ہو جاتی ہے تو آدمی چڑچڑا ہو جاتا ہے۔ بھوک کی وجہ سے خون میں شکر کی مقدار کم ہو جاتی ہے اور آدمی چڑچڑا ہو جاتاہے۔ جب آدمی چڑچڑا ہو جاتا ہے تو اس سے جھگڑے کا خطرہ ہوتا ہے، لوگوں کی دل آزاری کا خطرہ ہوتا ہے جس سے اُس کا آخرت کا نقصان ہو تا ہے اور دُنیا کے لحاظ سے بھی اُس کو نقصان ہو جاتا ہے۔ نجی کمپنیاں (Private Companies) جب کام پر رکھنے کے لئے آدمی کا انتخاب کرتی ہیں تو اس کی قابلیت کے علاوہ اس بات کو خاص طور پر مدِنظر رکھتی ہیں کہ آدمی ہنس مکھ ہو، شخصیت (Personality) خوشگوار ہو، ناگوار نہ ہو، اور جو آدمی ہنس مکھ نہ ہو اور بات کرتے ہوئے منہ بگھاڑ رہا ہو، ماتھے پر بَل ہوں تو اس کونکال باہر کیا جاتا ہے اور کام پر نہیں رکھا جاتا۔ یہاں تک احتیاط کرنی چاہئے کہ اگر کثرتِ نوافل اور عبادات سے آدمی کا مزاج چڑچڑا ہو جائے تو اس کو اپنے معمولات میں کمی کرنی چاہئے۔ کم سونے سے مزاج چڑچڑا ہو گیااور بہت نوافل سے، بہت ذکر سے مزاج چڑچڑا ہو گیا تو اس چڑچڑے پن کو دُور کرنا ضروری ہو جاتا ہے اور اس کے لئے معمولات کو اعتدال پر لانا ضروری ہوتا ہے۔ حدیث شریف میںآیا ہوا ہے کہ جب بہت سخت نیند آئے تو سو جانا چاہئے۔ ایک آدمی کثرت سے عبادت میں لگ جانے سے کمائی کرنے سے رہ جائے، بیوی بچوں کے حقوق پورے کرنے سے رہ جائے تو نوافل میں اتنی کثرت پسندیدہ نہیں ہے کیونکہ اب اس سے دوسری ضروری باتوں پر اثر آرہا ہے۔ شیطان تو بہت کمال کرتا ہے، اس کے مختلف محاذ ہوتے ہیں۔ ایک محاذ پر کام کرتا ہے، جب اُس کے متعلق بندے کو آگاہی ہو جاتی ہے اور اُس کی اصلاح ہو جاتی ہے تو دوسرے محاذ پر آجاتا ہے۔
ادارۂ اشرفیہ عزیزیہ کی تربیتی ترتیب
درجہ اوّل: تعلیم الاسلام (مفتی کفایت اﷲ صاحبؒ) کا چار پانچ مرتبہ مطالعہ تا کہ مسائل ذہن نشین ہو جائیں ، جہاں سمجھ نہ آئے خودفیصلہ کرنے کی بجائے علماء سے پوچھنا،استعداد اچھی ہو تو اپنے گھر یا مسجد میں چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس کو سبقًا سبقًا پڑھنا۔اُم الا مراض، اکابر کا سلوک واحسان،فیضِ شیخ (حضرت مولانا زکریا ؒ (تسہیلِ قصد السبیل ،تسہیل المواعظ ،اصلاحی نصاب (دس رسالوں کا مجموعہ از حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ (- درجہ دوم : بہشتی زیور، ملفوظاتِ حکیم الامت (مولانا اشرف علی تھانویؒ) ،اُسوۂ رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم (حضرت ڈاکٹر عبدالحئی صاحبؒ) ، آپ بیتی (حضرت مولانا زکریاؒ) ، تذکرۃ الاولیاء (شیخ فریدالدین عطارؒ) اورکیمیائے سعادت (امام غزالیؒ ( درجہ سوم :سلوکِ سلیمانی (حضرت مولانامحمداشرف سلیمانیؒ) تربیت السالک، التکشف، بوادرنوادر، انفاس عیسیٰ، بصائرحکیم الامت (حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ (، احیاء العلوم) امام غزالیؒ
جہری ذکر کی احتیاط اور طریقہ
سارے تصوف کے سلاسل کی طرح ہمارے سلسلہ میں بھی ذِکر کو قلب کی اصلاح میں بطور بنیادی ذریعہ شامل کیا گیا ہے ۔سلسلہ کی ترتیب میں چشتیہ صابریہ جہری طریقہ ذِکر، ضرب کے ساتھ اختیار کیا گیا ہے۔ پہلے درجہ میں صرف سو بار لاالہ الا اللّٰہ ،سوبار الااللّٰہ اور سو بار اللّٰہ کا ذِکر کیا جاتا ہے ۔دوسرے اور تیسرے درجہ میں لا الہ الاللّٰہ دو سو بار ،الااللّٰہ چار سو بار اللّٰہُ اللّٰہ چھ سو بار ، اللّہ سوبار کی اجازت دی جاتی ہے۔ کتابوں کا مطالعہ تو ہر کوئی کر سکتا ہے جبکہ جہری ذِکر کی ترتیب کے لیے بیعت ، مشورہ اور اس کے طریقہ کو بالمشافہ(آمنے سامنے) سیکھنا ضروری ہے،خود سے کرنے میں ذہنی و جسمانی نقصان کاخطرہ ہو سکتا ہے۔
ھمارےمتعلق
ھمارےمتعلق

مزید
کتب
کتب

مزید
بیانات
بیانات

مزید
غزالی
غزالی

مزید