:تازہ ترین

ساتھی سلسلے کا خاص نقش جو بیماری،حسد،نظرِبد،جادو،جنات اور دشمنوں سے حفاظت کے سلسلے میں مجرب ہے رابطہ سیکشن ’ای میل’ کے ذریعے منگوا سکتے ہیں۔

click here گذشتہ سائٹ کو ملاحظہ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

 

[۲۰۰۹-۱۹۹۷] تمام بیانات


CD-1/ ۲۰۰۲ - ۱۹۹۷ : .rar | torrent
CD-2/ ۲۰۰۴ - ۲۰۰۳ : .zip | torrent
CD-3/ ۲۰۰۵ : .zip | torrent
CD-4/ ۲۰۰۷ - ۲۰۰۶: .zip | torrent
CD-5/ ۲۰۰۶: .zip | torrent
CD-6/ ۲۰۰۷ - ۲۰۰۶: .zip | torrent
CD-7/ ۲۰۰۷: .zip | torrent
CD-8/ ۲۰۰۸ جنوری تا جون: .zip | torrent
CD-9/ ۲۰۰۸ جولائی تا دسمبر: .zip | torrent
CD-10/ ۲۰۰۹ جنوری تا جون: .zip | torrent

تاہ ترین

title_Page_1 698 kBShamsudin Roedad

تمام غزالی ۔۲۰۰۲۔۲۰۱۴

Title Ghazali JANUARY 2015 - Copy_1_Page_01 257 MBGhazali [2002-2014]
صوفیاء کا میدان احسان کا میدان ہے کہ دوحالتوں میں سے ایک حالت آدمی کو حاصل ہوجائے
) فرمایا کہ حدیثِ جبرائیل کا تذکرہ مدارس میں سرسری ہو جاتا ہے جبکہ صوفیائے کرام کی بحثوں میں اس کا ذکر عام ملتا ہے بلکہ راہِ سلوک میں حدیثِ جبرائیل ہی تصوف کی بنیاد اور اساس ہے۔ حدیث کامفہوم اس طرح سے ہے: حضرت عمر بن خطابرضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک دن رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ اچانک ایک شخص سامنے سے نمودار ہوا جس کے کپڑے نہایت سفید اور بال بہت ہی زیادہ سیاہ تھے اور اُس شخص پر سفر کا کوئی اثر بھی معلوم نہیں ہورہا تھا (جس سے یہ خیال ہوتا تھا کہ یہ کوئی بیرونی شخص نہیں ہے ) اور ہم میں سے کوئی شخص اس نووارد کو پہچانتا بھی نہ تھا (جس سے خیال ہوتا تھا کہ یہ کوئی باہر کا آدمی ہے تو یہ حاضرین کے حلقہ میں سے گزرتا ہوا آیا) یہاں تک کہ رسول اللہﷺ کے سامنے آکر دوزانوں اس طرح بیٹھ گیا کہ اپنے گھٹنے آنحضرتﷺ کے گھٹنوں سے ملادیے اور اپنے ہاتھ حضورﷺ کی رانوں پر رکھ دیے اور کہا اے محمد! مجھے بتلائیے کہ اسلام کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ (دل و زبان سے) تم یہ گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمدﷺ اس کے رسول ہیں اور نماز قائم کر و اور زکوٰۃ ادا کرو اور ما ہ رمضان کے روزے رکھو اور اگر حج بیت اللہ کی تم استطاعت رکھتے ہو تو حج کرو۔ اس نووارد سائل نے آپ کا یہ جواب سن کر کہا کہ آپ نے سچ کہا۔ راویِ حدیث حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ ہم کو اس پر تعجب ہوا کہ یہ شخص پوچھتا بھی ہے اور پھر خود تصدیق و تصویب بھی کرتاجاتا ہے۔ اس کے بعد اس شخص نے عرض کیا اب مجھے بتلائیے کہ ایمان کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا ایمان یہ ہے کہ تم اللہ کو اوراس کے فرشتوں اور اُس کی کتابوں اور اُس کے رسولوں اور یومِ آخر یعنی روزِ قیامت کو حق جانو اور حق مانو اور ہر خیر و شر کی تقدیر کو بھی حق جانو اور حق مانو (یہ سن کر بھی) اس نے کہا کہ آپ نے سچ کہا۔ اس کے بعد اُس شخص نے عرض کیا مجھے بتلائیے کہ احسان کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا کہ احسان یہ ہے کہ اللہ کی عبادت و بندگی تم اس طرح کرو گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو اگر چہ تم اُس کو نہیں دیکھتے ہو پر وہ تو تم کو دیکھتا ہی ہے۔( حدیث آگے اور بھی ہے) حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ یہ باتیں کرکے یہ نووارد شخص چلا گیا تو میں ٹھہرا رہا، حضورﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ اے عمر! کیا تمہیں پتہ ہے وہ سوال کرنے والا شخص کون تھا، میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں، آپﷺ نے فرمایا کہ وہ جبرائیل تھے، تمہاری اس مجلس میں اس لئے آئے تھے کہ تم لوگوں کو تمہارا دین سکھا دیں۔ (صحیح مسلم، باب معرفۃ الایمان، و الاسلام، والقدر جزء:۱، صفحہ۳۶) تو صوفیاء کا میدان احسان کا میدان ہے کہ دو حالتوں میں سے ایک حالت آدمی کو حاصل ہوجائے یا یہ کہ عبادت کرتے ہوئے یہ دھیان ہو کہ گویا میں اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہوں اور یا اگر یہ نہیں ہو سکتا تو کم از کم یہ دھیان ہو کہ اللہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے ۔
ملکۂ یاداشت یا نسبتِ یاداشت
فرما یا کہ ہمارے حضرت مولانا اشرف صاحب رحمتہ اللّٰہ علیہ کے ایک سیدھے سادھے مرید تھے، تبلیغ میں وقت لگایا ہوا تھا، ہاسٹل سے آتے جاتے تھے، شعبۂ اُردو کی ایک طالبہ اُس کے دل میں سما گئی، اب اس کا جذبہ ہوا کہ اس کو دعوت دینی چاہئے تو وہ فضائل اعمال اور تسبیح کا ہدیہ لے کر گیا اور اُس سے بات کی۔ لڑکی بہت شریر تھی، اُس نے بھی اُس کی آؤبھگت اور پذیرائی کی، جسے آپ لوگ کہتے ہیں لفٹ کروائی،بس چند ملاقاتوں میں آدمی پاگل ہوگیا۔ حضرت مولانا صاحبؒ کے پاس آیا اور کہنے لگا: ’’شیخ صیب یو تعویذ راتہ اولیکہ چہ دغہ جینئ راتہ ملاؤشی‘‘ (شیخ صاحب ایک تعویذ لکھ کر دو تاکہ یہ لڑکی مجھے مل جائے) حضرت صاحبؒ نے کچھ تعویذ لکھ کردے دیا۔ ایک دن مجھ سے کہنے لگا: ’’ڈانگتر صیب د شیخ صیب تعویذ کار اوکو۔ شبِ جمعے لہ تلے ووم ھغہ جینئ ھلتہ راغلے وہ او گیرہ کی ئے رالہ گوتے وہلے‘‘ (ڈاکٹر صاحب! شیخ صاحب کے تعویذ نے کام کیا ہے۔ میں شبِ جمعہ (مردوں کا اجتماع) کے لئے گیا تھا وہاں وہ لڑکی آئی تھی اور میری داڑھی میں اُنگلیاں پھیر رہی تھی) تو جذبۂ محبت کی وجہ سے کسی کا خیال آدمی پر اتنا طاری ہوجاتا ہے کہ باقاعدہ متشکل ہو کر نظر آتا ہے۔ یہ انسان کے ساتھ ہوجاتا ہے لیکن وہ ذاتِ ذوالجلال جو ساری خوبصورتی اور سارے حسن کا منبع ہے اُس کی محبت میں کیا حال ہوتا ہوگا؟ تو صوفیائے کرام یہ محنت کراتے ہیں کہ آدمی کو اللہ تعالیٰ کی ذاتِ عالی کے ساتھ ایسا تعلق ہوجائے کہ ہر وقت اُس کی موجودگی کادھیان رہے اور یہ بات آدمی کو گناہ سے روک کر اعمال پر لگادے۔ اس کو ملکۂ یاداشت یا نسبتِ یاداشت کہتے ہیں اور یہ بات آدمی کو تب ہی سمجھ آتی ہے جب اُس کویہ بات حاصل ہوجائے۔
خوش اخلاقی مفت کی نیکی ہے اور ولایت کا دروازہ کھولنے والی ہے
فرمایا کہ ہمارے یہاں ایک پروفیسر صاحب نے امام صاحب کو ڈانٹا تو مجھے بڑی ناگواری ہوئی۔ بس پروفیسر صاحب گیا اوراُس کو کمر کا درد ہو گیا اور جماعت کی نماز میں آنے سے ہی رہ گیا۔ ایک دفعہ میں گاؤں گیا تو پانی کی بہت تکلیف تھی، بارشیں نہیں ہو رہی تھیں، کنویں خشک ہو رہے تھے اور لوگ کنوؤں میں مزید آٹھ آٹھ، دس دس فٹ کھدائی کروا رہے تھے۔ ہمارے گاؤں کا ایک آدمی تھاجس کا وقت انگلینڈ میں گزرا تھا اور دہریہ ہو کر آگیا تھا۔ دیہاتی لوگوں نے اُس کی انگریزیت کی وجہ سے اُس کا نام اینٹی پینٹی رکھا ہوا تھا۔ نمازوں کے خلاف باتیں، روزوں کے خلاف باتیں، دین کے خلاف باتیں اس کا مشغلہ تھا۔ اس کا بھی کنواں خشک ہو گیا اور وہ اس کی کھدائی کروا رہا تھا۔ ہمارے امام صاحب کا بیٹا مسجد میں بچوں کو قرآن مجید پڑھاتا تھا، اُس نے اِس آدمی کے بچے کی پٹائی کر دی تو یہ آدمی آیا اور امام صاحب کے بیٹے کو بہت بے عزت کیا۔ پھر وہ کنواں کھودنے پر لگے مزدوروں کو دیکھنے کے لئے گیا، اس نے کہا کہ یہ مزدور ٹھیک کام نہیں کرتے، میں خود دیکھنے نیچے اُتروں گا۔ جب اسے اتارنے لگے تو آدمی کے ہاتھ سے کنویں کی چرخی چھوٹ گئی، اینٹی پینٹی سیدھا جا کر نیچے گرا، سرمیں چوٹ لگی اور مر گیا۔ دوسرے بھائی نے کہا کہ پیچھے میں اُترتا ہوں۔ اس کو اُتار رہے تھے تو آدھے میں وہ بھی چھوٹا اور اِس کی پسلیوں پرجا کر گرا۔ تیسرے آدمی نے چرخی کو روکنے کی کوشش کی، اس نے جوں ہی پکڑا تو چرخی نے اس کو گھمایااور کنویں کے اُس طرف لے جا کر پھینکا۔ میں نے گاؤں والوں کو کہا کہ اس کی پکڑنہیں ہو رہی تھی مگر اس نے ایک اللہ والے کو کرخت بات کر کے ستایا، بس اس کی پکڑ ہو گئی۔ اتنے دنوں یہ دندناتا پھر رہا تھا، اب اس کی پکڑ ہو گئی ہے، اب آپ فکر نہ کریں، بارشیں بھی ہو جائیں گی، علاقے کا پانی بھی ہو جائے گا۔ تو یہ خوش اخلاقی مفت کی نیکی ہے اور ولایت کا دروازہ کھولنے والی ہے۔ کسی شاعر نے کہا ہے کہ ؂ دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھیں کروبیاں
دعایا بددعا فقط الفاظ نہیں جو ہم کہتے ہیں بلکہ یہ قلب کی اس کیفیت کو کہتے ہیں جو ہمارے دِل میں کسی کی خدمت یا اذیت سے پیدا ہوتی ہے
فرمایاکہ نفس کا کچلنا مشکل ہوتا ہے۔ نفس کا کچلنا ہو جائے تو انشاء اللہ آپ مال، جان، اولاد ہر چیز میں واضح برکت کو آتادیکھ لیں گے۔ میں ایک جگہ گیا تو وہاں ایک عورت نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب! میرے بچوں کے لئے دُعا کریں۔ میں نے کہا دعا تو میں کروں گا مگر تم بچوں کے والد صاحب کو ستایا مت کرو، کیونکہ مرد نے شکایت کی تھی کہ مجھے بہت ناگوار باتیں کرتی ہے، تلخ باتیں کہتی ہے کیونکہ عورت مالدار ہے، اس کا مال گھر میں چل رہا ہے، میں نے کہا کہ اگر تو بچوں کی ترقی چاہتی ہے تو خاوند کو ستایا نہ کر، میں دعا کروں گا لیکن نسخہ میں نے آپ کو بتا دیاہے۔ بعض مرد کہتے ہیں کہ دعا کرو بچوں کا مستقبل کھلے۔ میں اس سے کہتا ہوں کہ بیوی کو ستایا مت کرو تو تمہارے بارے میں بھی خیر کے حالات آئیں گے۔ ہم نے آپس میں ایک دوسرے کے دِل دُکھائے ہوئے ہوتے ہیں اس لئے ایک دوسرے کے لئے دل سے دعا کی چاہت نہیں ہوتی۔ دُعا الفاظ تو نہیں ہیں جو ہم کہتے ہیں بلکہ دعا قلب کی اس کیفیت کو کہتے ہیں جو ہمارے دل میں کسی کی خدمت یا اذیت سے پیدا ہوتی ہے۔
ادارۂ اشرفیہ عزیزیہ کی تربیتی ترتیب
درجہ اوّل: تعلیم الاسلام (مفتی کفایت اﷲ صاحبؒ) کا چار پانچ مرتبہ مطالعہ تا کہ مسائل ذہن نشین ہو جائیں ، جہاں سمجھ نہ آئے خودفیصلہ کرنے کی بجائے علماء سے پوچھنا،استعداد اچھی ہو تو اپنے گھر یا مسجد میں چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس کو سبقًا سبقًا پڑھنا۔اُم الا مراض، اکابر کا سلوک واحسان،فیضِ شیخ (حضرت مولانا زکریا ؒ (تسہیلِ قصد السبیل ،تسہیل المواعظ ،اصلاحی نصاب (دس رسالوں کا مجموعہ از حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ (- درجہ دوم : بہشتی زیور، ملفوظاتِ حکیم الامت (مولانا اشرف علی تھانویؒ) ،اُسوۂ رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم (حضرت ڈاکٹر عبدالحئی صاحبؒ) ، آپ بیتی (حضرت مولانا زکریاؒ) ، تذکرۃ الاولیاء (شیخ فریدالدین عطارؒ) اورکیمیائے سعادت (امام غزالیؒ ( درجہ سوم :سلوکِ سلیمانی (حضرت مولانامحمداشرف سلیمانیؒ) تربیت السالک، التکشف، بوادرنوادر، انفاس عیسیٰ، بصائرحکیم الامت (حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ (، احیاء العلوم) امام غزالیؒ
جہری ذکر کی احتیاط اور طریقہ
سارے تصوف کے سلاسل کی طرح ہمارے سلسلہ میں بھی ذِکر کو قلب کی اصلاح میں بطور بنیادی ذریعہ شامل کیا گیا ہے ۔سلسلہ کی ترتیب میں چشتیہ صابریہ جہری طریقہ ذِکر، ضرب کے ساتھ اختیار کیا گیا ہے۔ پہلے درجہ میں صرف سو بار لاالہ الا اللّٰہ ،سوبار الااللّٰہ اور سو بار اللّٰہ کا ذِکر کیا جاتا ہے ۔دوسرے اور تیسرے درجہ میں لا الہ الاللّٰہ دو سو بار ،الااللّٰہ چار سو بار اللّٰہُ اللّٰہ چھ سو بار ، اللّہ سوبار کی اجازت دی جاتی ہے۔ کتابوں کا مطالعہ تو ہر کوئی کر سکتا ہے جبکہ جہری ذِکر کی ترتیب کے لیے بیعت ، مشورہ اور اس کے طریقہ کو بالمشافہ(آمنے سامنے) سیکھنا ضروری ہے،خود سے کرنے میں ذہنی و جسمانی نقصان کاخطرہ ہو سکتا ہے۔
ھمارےمتعلق
ھمارےمتعلق

مزید
کتب
کتب

مزید
بیانات
بیانات

مزید
غزالی
غزالی

مزید