clickhereگذشتہ سائٹ کو ملاحظہ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔
ساتھی سلسلے کا خاص نقش جو بیماری،حسد،نظرِبد،جادو،جنات اور دشمنوں سے حفاظت کے سلسلے میں مجرب ہے رابطہ سیکشن 'ای میل' کے ذریعے منگوا سکتے ہیں۔

باطنی فیض

فرمایاکہ ایک دفعہ ہمارے علاقے میں ایک تقریر ہورہی تھی۔ ہم نے سنا تھا کہ مقرر بڑی زبردست تقریر کرتے ہیں، بڑا مزہ آتا ہے۔ ہم بھی چلے گے سننے کے لئے۔ تقریر سنی واقعی بڑا جوش و خروش اور بڑا لطف و مزہ آیا۔ واپس آئے تو ویسے ہی میرے دل میں خیال آیا کہ یہ جوش و خروش لطف و مزہ اور چیز ہوتی ہے اور نورانیت اور چیز ہوتی ہے بہر حال ہمیں کیا اندازہ۔ ہمارے گاؤں میں ایک نقشبندیہ خانقاہ ہے، اس کے بڑے کاملین لوگ ہیں، ہم ان بزرگوں سے ملنے کے لئے گئے۔ اور لوگ بھی گئے۔ لوگوں نے تقریر کی کارگزاری سنائی تو بزرگوں نے فرمایا: ماشاء اللہ جوش و خروش بہت ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنے آخرت کے لحاظ سے انتہائی محتاط رویے کی وجہ سے زیادہ تبصرہ نہیں کیا۔ بندہ کو تسلی ہوئی کہ واقعی انوار اور فیض کی علامت یہ ہوتی ہے کہ وہاں سے اُٹھنے کے بعد آدمی کی نیکی کی توفیق میں اضافہ ہوا ہو خواہ مزہ آیا ہویا نہ آیا ہو، جوش و خروش طاری ہوا ہو یا نہ ہوا ہو لیکن نیکی کی توفیق میں اضافہ ہوا تو سمجھیں کہ فائدہ ہوگیا ہے اور اگر نیکی کی توفیق میں اضافہ نہیں ہوا تو سمجھیں نرِا جوش و خروش تھا، یا کہنے والے میں کمی ہے یا سننے والے میں یا دونوں طرف سے ایک ہی حال ہے۔ فائدہ کیا ہوا؟ کسی سلسلے کے حق ناحق ہونے کے بارے میں آدمی اگر آگاہی حاصل کرنا چاہے تو یہ دیکھے کہ اس میں جانے آنے والوں کی آخرت کی فکر اور آخرت کے اعمال کی فکر اور آخرت کے اعمال کی توفیق میں اضافہ ہورہا ہے کہ نہیں۔ اگر نہیں ہورہا ہے تو نری تحریک ہی ہے فائدہ اور فیض نہیں ہے۔

دنیا کے حالات آزمائش ہیں

فرمایا کہ یہ دنیا کے حالات آزمائش ہیں اس لئے یہاں کوئی جل گیا، کوئی مرگیا، کسی کو قتل کردیا گیا، یہ تو اس کا ظاہری پہلو ہے۔ اصحاب الاُخدود کو جس وقت بادشاہ اسلام قبول کرنے پر آگ کی خندقوں میں ڈال رہا تھا تو اس میں ایک عورت کا دودھ پیتا بچہ اس سے لیا جو باتیں نہیں کرسکتا تھا اور اس کو آگ میں گرایا۔ اس عورت کو سخت تکلیف ہوئی، کو فت ہوئی اور چیخی اور چلائی۔ اس بچے نے اندر سے آواز دی کہ امی جان، امی جان! پریشان نہ ہوں، باہر سے تو آگ ہے مگر اندر جنت ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جنت کے حالات کھولے ہوئے تھے۔ یہ پیچھے آبادی ہے جمعہ خان کلے وغیرہ اس کے کچھ حضرات سلسلے میں آیا جایا کرتے تھے۔ ان کی ایک عورت جل کر مرگئی تو انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب جب اس کو آگ لگی تو وہ اپنے جو مرے ہوئے رشتہ دار تھے ان کو آواز دے رہی تھی۔ میں نے کہا اس پر موت طاری ہونے والی تھی، عالم برزخ اللہ نے کھول دیا تواسے اپنے رشتہ دار نظر آنے لگے۔ بعض اوقات رشتہ داروں کو برزخ میں اطلاع دی جاتی ہے اور وہ تیاری کررہے ہوتے ہیں آنے والے کااستقبال کرنے کے لئے۔ میں نے اسے کہاکہ اس کو بوجہ موت کی حالت طاری ہونے کے برزخ کا کشف شروع ہوگیا تھا۔

موجودہ دورکا فتنہ

فرمایا کہ ایک اور فتنہ آج کل چلا ہے کہ آج کا نوجوان، آج کا مولوی، آج کا مفتی یہ کہتا ہے کہ مجھے اِستری کئے ہوئے، کریز والے کپڑے پہناؤ، موبائل میرے ہاتھ میں پکڑاؤ اور مجھے موٹر میں بٹھاؤ۔ اچھے اچھے زمیندار اپنی اُن زمینوں کو بیچ رہے ہیں جن زمینوں پر محنت کر کے ان کے والدین نے ان کو یہاں تک پہنچایا ہے۔ ہم نے ان کے بڑے بوڑھوں کو دیکھا ہے کہ زمینوں پر خود محنت کرتے تھے، کپڑے ان کے گندے ہوتے تھے، خپل ڈیران بہ ئے پہ خپلہ غورزولو(کھیتوں میں خود اپنے ہاتھ سے گوبر والی کھاد ڈال رہے ہوتے تھے ) جب کہ نئی نسل کہتی ہے کہ میرے اِستری کئے ہوئے کپڑے ہوں، موبائل میرے ہاتھ میں ہو اور موٹرمیرے پاس ہو۔ ان سب کے لئے تو میرے بھائی پیسے چاہئیں۔ اب ایک رات میں اتنے پیسے کس کو مل سکتے ہیں؟ تو ان کا ذہن سوچنا شروع کر دیتا ہے کہ اب اتنے پیسے کیسے اور کہاں سے ملیں گے؟ساری سوچ اور توانائی اس پر لگاتے ہیں۔ اگر ذِکر وظیفہ بھی پوچھتے ہیں تو اس لئے کہ پیسے ملیں۔ جب آپ کی ساری سوچ اور توانائی ان فضول کاموں میں لگنی شروع ہوجائے گی تو پھر جو اصل کام اور مثبت مقاصد ہیں وہ آپ پھر کیسے حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ بڑی غورو فکر کی با ت ہے۔

عذابِ ادنیٰ اور عذابِ اکبر

فرمایا کہ جن لوگوں نے جہنم سے گززنا ہواور اُن کی معافی وہاں پر لکھی گئی ہو یعنی ان کی معافی وہاں پر ہوگی تو یہ آدمی دُنیا میں خراب اعمال کرے تو یہاں اس کی پکڑ نہیں ہوتی، اس کے لئے پکڑ وہاں پر ہے۔ ہمارے ایک ساتھی تھے، یہ کافی عرصہ پہلے کی بات ہے، آئے اور کہا کہ بھائی کا دو کروڑ روپے کا کاروبار تھا ڈوب گیا، دیوالیہ ہو گیا اور ان کو پشاور چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ میں نے پوچھا کہ ان کے کاروبارکی بنیاد میں کوئی حرام چیزتو نہیں تھی؟ اس نے بتایا کہ ہاں جی سودی حساب کتاب تھا۔ تو اس ساتھی سے میں نے کہا کہ چونکہ آپ کا خاندان دیندار ہے، بڑوں نے آپ کو حلال کمائی پر پالا ہے اور آپ کے حالات سے یہ نظر آرہا ہے کہ آپ لوگوں کا جہنم سے گزرنا نہیں ہے۔ اس لئے آپ کی پکڑ یہاں پر ہو رہی ہے کہ کاروبار فیل ہو رہا ہے، دھکے کھا رہے ہیں، پریشان ہو رہے ہیں۔ یہاں کی پریشانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ آخرت کی پریشانی سے چھڑا دے گا۔ جن کی یہاں پکڑ ہو جاتی ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہے کہُ دنیا کے عذاب کو عذابِ ادنیٰ کہا گیا ہے اور آخرت کے عذاب کو عذابِ اکبر۔
وَلَنُذِیْقَنَّھُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَکْبَرِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ o (السجدۃ:۲۱)
ترجمہ: اور ہم ان کو قریب کا (یعنی دُنیا میں آنے والا) عذاب بھی اس بڑے عذاب (جس کی آخرت میں وعید ہے)سے پہلے چکھا دیں گے تا کہ یہ لوگ(متاثر ہو کر کفرسے) باز آئیں۔ (معارف القرآن) ان کو ہم چھوٹے عذاب کا مزہ چکھائیں گے بڑے عذاب سے پہلے۔ تو بعضوں کو جہنم سے گزرنا ہی نہیں ہوتا ہے لہٰذا دنیا میں پکڑ دھکڑ ہو جاتی ہے۔ دنیا میں مصیبتیں، پریشانیاں اور مشکلات جھیل کر آخرت کے لحاظ سے فارغ ہو جاتے ہیں اور جن کی پکڑآخرت میں ہو وہ دنیا میں مزے کر رہے ہوتے ہیں۔ کفار بھی سارے خراب اعمال کے ساتھ دنیا میں مزے کر رہے ہیں اور ایسے ہی وہ فاسق مسلمان جنہیں جہنم سے گزرنا ہے ان کی دنیا میں پکڑ کم ہوگی، ان کی پکڑ آخرت میں ہوگی۔ خراب اعمال کے اثرات اس دنیا میں بھی ظاہر ہوتے ہیں۔

ادارۂ اشرفیہ عزیزیہ کی تربیتی ترتیب

درجہ اوّل: تعلیم الاسلام (مفتی کفایت اﷲ صاحبؒ) کا چار پانچ مرتبہ مطالعہ تا کہ مسائل ذہن نشین ہو جائیں ، جہاں سمجھ نہ آئے خودفیصلہ کرنے کی بجائے علماء سے پوچھنا،استعداد اچھی ہو تو اپنے گھر یا مسجد میں چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس کو سبقًا سبقًا پڑھنا۔اُم الا مراض، اکابر کا سلوک واحسان،فیضِ شیخ (حضرت مولانا زکریا ؒ (تسہیلِ قصد السبیل ،تسہیل المواعظ ،اصلاحی نصاب (دس رسالوں کا مجموعہ از حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ (-
درجہ دوم : بہشتی زیور، ملفوظاتِ حکیم الامت (مولانا اشرف علی تھانویؒ) ،اُسوۂ رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم (حضرت ڈاکٹر عبدالحئی صاحبؒ) ، آپ بیتی (حضرت مولانا زکریاؒ) ، تذکرۃ الاولیاء (شیخ فریدالدین عطارؒ) اورکیمیائے سعادت (امام غزالیؒ (
درجہ سوم :سلوکِ سلیمانی (حضرت مولانامحمداشرف سلیمانیؒ) تربیت السالک، التکشف، بوادرنوادر، انفاس عیسیٰ، بصائرحکیم الامت (حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ (، احیاء العلوم) امام غزالیؒ
(

جہری ذکر کی احتیاط اور طریقہ

سارے تصوف کے سلاسل کی طرح ہمارے سلسلہ میں بھی ذِکر کو قلب کی اصلاح میں بطور بنیادی ذریعہ شامل کیا گیا ہے ۔سلسلہ کی ترتیب میں چشتیہ صابریہ جہری طریقہ ذِکر، ضرب کے ساتھ اختیار کیا گیا ہے۔
پہلے درجہ میں صرف سو بار لاالہ الا اللّٰہ ،سوبار الااللّٰہ اور سو بار اللّٰہ کا ذِکر کیا جاتا ہے
۔دوسرے اور تیسرے درجہ میں لا الہ الاللّٰہ دو سو بار ،الااللّٰہ چار سو بار اللّٰہُ اللّٰہ چھ سو بار ، اللّہ سوبار کی اجازت دی جاتی ہے۔
کتابوں کا مطالعہ تو ہر کوئی کر سکتا ہے جبکہ جہری ذِکر کی ترتیب کے لیے بیعت ، مشورہ اور اس کے طریقہ کو بالمشافہ(آمنے سامنے) سیکھنا ضروری ہے،خود سے کرنے میں ذہنی و جسمانی نقصان کاخطرہ ہو سکتا ہے۔
ھمارےمتعلق
ھمارےمتعلق

مزید
کتب
کتب

مزید
بیانات
بیانات

مزید
غزالی
غزالی

مزید